ولید ملک سینیئر صحافی اور کالم نگار ہیں اور متعدد اداروں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ وہ علاقائی و عالمی صورتحال پر لکھتے ہیں اور قارئین میں ان کی تحاریر بےحد مقبول ہیں۔
مسلمانوں کو نا صرف بچا لیا جائے گا بلکہ وہ دنیا کے فاتح بھی کہلائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔ اس وقت فرعون اور اس کے لشکر کے لیے مقام عبرت یہی خطہ تھا ۔ آنے والے وقت میں یہودیوں کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کا بھی یہی خطہ ہو گا ۔اور ہر سو کلمہ توحید کا پرچم لہرا یا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔
اس جنگ میں عالم اسلام کے لیے جو سب سے بڑی خوشخبری ہے ۔ وہ یہ ہے کہ تل ابیب پہلے ہم سے ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ الحرمین الشریفین کے تحفظ کے لیے جانے والے لشکر کے بعد اب یہ فاصلہ چند سو کلومیٹر تک رہ گیا ہے ۔ اسرائیل اب عرب دنیا کے خلاف کوئی بھی جارحیت کا ارتکاب کرنے سے قبل سو دفعہ سوچے گا ۔
ٹرائیکا کے درمیان جاری جنگ کا جائزہ لینے سے حیران کن اسٹریٹجک نتائج سامنے آئے ہیں۔ امریکہ کی سپرمیسی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے اور اسرائیل کا ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے۔ ایران کو تنہا سمجھنے کی ٹیکنیکل غلطی امریکہ کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنی، جبکہ پسِ پردہ حلیفوں نے جدید ٹیکنالوجی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔
امریکہ نے بحری ناکہ بندی سے ایران کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں مذاکرات کی ناکامی پر محدود حملوں کا آپشن بھی موجود ہے۔ ایران کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا امریکی خواہش پر معاہدہ یا پھر “مارو اور مر جاؤ” کی پالیسی۔
مودی آخر کب تک پاکستان فوبیا کی بنیاد پر عوام کا سیاسی استحصال کرتا رہے گا ؟۔ پرتشدد سیاسی بیانیہ معاشروں میں مختلف طبقوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دیتا ہے ۔ جو عدالتی جانبداری ، سیاسی ڈکٹیٹرشپ اور بیروزگاری کا سبب بنتا ہے ۔ لہذا مودی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ضد، انا اور تعصب کے پرفریب جال سے نکل کر پاکستان کےساتھ “معاہدہ برائے بقائے امن ” کرے۔
دنیا جوہری تصادم اور یقینی تباہی کے دہانے پر تھی جب پاکستان کو اس کارِ خیر کے لیے منتخب کیا گیا۔ “سفارتی بنیان المرصوص” کے ذریعے کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں اور سول ملٹری الائنس کے دلیرانہ کردار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک دیا۔ ابلیسی قوتوں کی سازشیں ناکام ہوئیں اور پاکستان “پیس میکر” بن کر ابھرا ہے
آبنائے ہرمز جس سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیاں وابستہ ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں اس کی بندش فلیش پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس روٹ کو انسانیت کی بقا کا نام دے کر دنیا کے ہر انسان پر اس کی حفاظت کرنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ یہ روٹ انسانیت کی لائف لائن ہے، بنی نوع انسان کی بقا ہے
ایرانی رجیم کو سمجھنا ہو گا کہ یہ جنگ اعصاب کو کنٹرول کرنے اور صبر کرنے کی جنگ ہے، جس میں ایرانی رجیم دن بدن ٹمپرامنٹ کھوتی جا رہی ہے۔ خلیجی ممالک کو نشانے پر رکھ کر فاصلوں کو مزید بڑھانے کے بجائے ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جذباتیت کی رو میں بہہ کر امریکہ و اسرائیل کو موقع مت دیں
امریکیوں و اسرائیلیوں نے جنگ کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس پہلو پر شاید اتنا نہیں سوچا ہوگا کہ چائنا اس حد تک گہرائی میں اتر سکتا ہے۔ بہرحال امریکہ و اسرائیل کو اب نئے سرے سے اپنی عسکری منصوبہ بندی کرنا ہوگی