اسلام آباد: امریکا طویل عرصے سے پاکستان کے توانائی شعبے میں معاونت کرتا رہا ہے، خاص طور پر ہائیڈرو پاور منصوبوں اور تکنیکی اپ گریڈ کے ذریعے، جبکہ حالیہ برسوں میں تعاون کا محور صاف اور پائیدار توانائی کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور پاکستان کے درمیان “گرین الائنس” کے تحت شمسی، ہوا اور گرڈ ماڈرنائزیشن جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے اس ہدف سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت 2030 تک 60 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
ماہرین کے مطابق شمسی توانائی پاکستان کے لیے سب سے کم لاگت حل بن کر سامنے آ رہی ہے، جبکہ ملک میں سولر فارمز کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث پاکستان کو ممکنہ طور پر عالمی سطح پر اہم سولر مارکیٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہائیڈرو پاور کی پیداوار کو خطرات لاحق ہیں، کیونکہ گلیشیئرز کے پگھلنے اور مون سون پیٹرن میں تبدیلی سے پانی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر کاروباری شعبہ شمسی توانائی کو زیادہ مستحکم متبادل کے طور پر اختیار کر رہا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستحکم بجلی کی فراہمی اقتصادی راہداری منصوبوں اور خصوصی اقتصادی زونز کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سرمایہ کاری اور ترقی کا انحصار قابلِ اعتماد توانائی پر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے نہ صرف اقتصادی استحکام بڑھے گا بلکہ خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔
دیکھئیے:امریکا پاکستان گرین الائنس: قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور