اسلام آباد: افغان طالبان کے ڈپٹی ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے 492 افراد کے محفوظ ہونے کے دعوے کے بعد کابل حملے میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جبکہ ناقدین نے اسے مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان اور فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ بحالی مرکز کے 492 افراد زندہ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس بیان میں مبینہ ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات یا نام فراہم نہیں کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے پہلے بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے دعوے کیے گئے تھے، جس کے بعد اب جاری کی گئی فہرست نے ان اعداد و شمار کو مشکوک بنا دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سینکڑوں افراد محفوظ ہیں تو ہلاکتوں کے دعوؤں کی وضاحت ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق متعلقہ بحالی مرکز کی گنجائش بھی محدود تھی، جس کے باعث اتنی بڑی تعداد میں افراد کی موجودگی اور نقصانات کے دعووں پر مزید سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ اور مبالغہ آمیز دعوے خطے میں کشیدگی بڑھانے اور پروپیگنڈا بیانیے کو تقویت دینے کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے شفاف معلومات کی فراہمی ضروری ہے۔
دیکھئیے:کابل کے ڈپٹی گورنر کی سنگین دھمکیاں، پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیان سامنے آ گیا