طالبان رجیم خود تو جہلا کا ٹولہ ہے ہی لیکن شائد وہ دنیا کو بھی اپنے جیسا ہی سمجھتے ہیں ، ان کے نئے استاد بھارت نے جھوٹ کی توپ چلانا کیا سکھائی وہ دنیا کا ہر کام کذب بیانی سے ہی کرنا چاہتے ہیں ، مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں اس کے سوا کچھ آتا بھی تو نہیں ۔ بھول رہے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور سچ چمکتے سورج کی طرح خودکومنوالیتا ہے ۔16 اور 17 مارچ کی درمیانی شب دہشت گری کے مراکز پر پاکستان کی کارروائی کے فورا بعد افغان طالبان نے جس انداز میں ہلاکتوں کے دعوے کیے، وہ نہ صرف متضاد تھے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ خود انہی کے بیانات ان کی تردید کرتے دکھائی دیے۔ دستیاب شواہد، زمینی حقائق، بین الاقوامی رپورٹس اور تکنیکی تجزیات کو یکجا کیا جائے تو ایک مضبوط اور واضح موقف سامنے آتا ہے کہ پاکستان نے کسی سویلین ہدف یا ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایک ایسے عسکری ٹھکانے پرکارروائی کی جس کی اصلیت پوری دنیا نہ صرف جانتی ہے بلکہ مغربی میڈیا اس کے بارے میں رپورٹس شائع کرچکا ہے ۔
کیمپ فینکس، جو ماضی میں ایک امریکی فوجی اڈہ رہ چکا ہے، اب بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک حساس عسکری کمپانڈ ہی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس، جن میں بی بی سی، رائٹرز اور الجزیرہ شامل ہیں، اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ حملہ اسی کمپانڈ کے پر کیا گیا، جس میں متعدد ملٹری یونٹس اور اسلحہ ڈپو بھی تھا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بحالی مرکز موجود تھا یا نہیں، بلکہ اگر وہ تھا بھی تو ایسے عسکری کمپانڈ کے عین درمیان ، جہاں اسلحہ، بارودی مواد ،ڈرون کی اسمبلنگ اور خودکش دہشت گردوں کی تیاری کی جاتی ہو کوئی سویلین سہولت اگر موجود بھی تھی تو اس کا واحد مطلب یہ ہے کہ طالبان اسے اپنی دہشت گردی کے لئے ہیون شیلڈ کے طور پر استعمال کررہے تھے ،بالکل اسی طرح جس طرح ان کے بھیجے دہشت گرد مساجد کو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔یہ طرز عمل صرف کابل کے اس دہشت گردی کے مرکز تک ہی محدود نہیں ، ڈیورنڈ لائن پر خوست پکتیکا اور ننگر ہار میں بارڈر پر ناکامی کے بعد اب طالبان اپنے مورچے سول آبادیوں کے درمیان بنا رہے ہیں ، اور مقامی آبادی کو گھر چھورنے کی اجازت نہیں ۔
حملے کے فورا بعد طالبان کی جانب سے 400 ہلاکتوں کا دعوی اسی بھونڈے انداز سے سامنے آیا جیسے دو ہفتے قبل جلال آباد میں پاکستانی پائلٹ کی گرفتاری کا جعلی بیانیہ بھیلایا گیا تھا ، پہلے ٹویٹ کیا پھر ڈیلیٹ کردیا ، اور اس کے ساتھ بھارت کی سرپرستی میں کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے سوشل میڈیا نے جھوٹ کا وہ تو مار داغاکہ باقاعدہ کزب بیانی کا سیلاب آگیا ۔ حالانکہ 4سو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کوئی چھوٹی بات نہیں ، یہ ایک غیر معمولی بڑی تعداد ہے، جے ثابت کرنا کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں دنیا ثبوت مانگتی ہے ۔ حیران کن طور پر نہ تولاشیں دکھائی گئیں، نہ جنازے، نہ متاثرین کی شناخت، اور نہ ہی کوئی مستند ہسپتال ریکارڈ سامنے آیا۔ بعد ازاں جب طالبان کے نائب ترجمان مولوی حمداللہ فطرت نے 492 افراد کی فہرست جاری کی اور کہا کہ یہ تمام افراد محفوظ ہیں، تو خود ان کا پہلا دعوی غتر بود ہو گیا۔ اگر سینکڑوں افراد زندہ اور محفوظ ہیں، تو وہ 400 ہلاک شدگان کون تھے۔ اس احمقانہ تضاد پر کوئی طالبانی عقل مند اعتبار کرسکتا ہے یا کوئی مودی کا مہاسبھائی ، یہ تضاد محض ایک معمولی غلطی نہیں بلکہ ایک منظم سازشی بیانیہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ مولوی فطرت نے امید ہسپتال کا نام لیاہے ، حالانکہ امید ہسپتال اس کیمپ سے کم ازکم 20 کلو میٹر دور ایک ملٹی سٹوری بلڈنگ ہے جو مکمل محفوظ ہے ۔ مقامی افراد کی سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ویڈیوز اور تصاویر بھی طالبانی فریب کو بے نقاب کر ہی ہیں کہ جن بیرکوں کو بحالی مرکز قرار دیا گیا، وہ سادہ ساخت کی سنگل اور ڈبل اسٹوری عمارتوں پر مشتمل تھی، جن کی چھتیں ٹین کی ہیں ،دیواریں بڑی حد تک محفوظ ، سائن بورڈ اور جھنڈے اپنی جگہ موجود ہیں، اور کہیں بھی اس نوعیت کی بمباری کے آثار نہیں ملتے جو 400 افراد کی ہلاکت کا باعث بن سکے ۔
بی بی سی کی رپورٹ میں شامل ایک سیکیورٹی گارڈ کا بیان بھی اس معاملے کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس کے مطابق پہلے ملٹری یونٹس سے فائرنگ ہوئی اور پھر فضائی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑکی اور وہ ان بیرکس تک پہنچی ، اگر آگ قریبی عمارتوں تک پھیلی، تو اس کی بنیادی وجہ اسی کمپانڈ میں موجود عسکری سرگرمیاں تھیں۔ جیو لوکیشن ماہرین کے مطابق یہاں اگر کوئی بحالی مرکز تھا بھی تو اس کے اور اسلحہ ڈپو یا ڈرون ورکشاپ کے درمیان فاصلہ نہایت کم تھابعض اندازوں کے مطابق 40 میٹر تک، یہ بات بذات خود طالبان کے خلاف فرد جرم بلکہ ان کا قبال جرم ہے ۔ کئی عالمی ادارے یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ”طالبان نشے کے عادی لوگوں کو خود کش حملہ آوروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں ” اس فوجی اڈے پر بحالی مرکز کے نام پر نشئیوں کی موجودگی اس الزام کو ثبوت فراہم کر ہی ہے کہ یہ نشئی وہی تھے ، جنہیں طالبان دہشت گردی میں خود کش کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔اس معاملے کو جس تناظر میں بھی دیکھا جائے ، مجرم طالبان رجیم ہے ، جواب انہیں دینا ہوگا ، کہ نشئے کے عادی سویلینز کو اس جنگی مقام پر رکھا کیوں گیا تھا ؟
طالبان کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا کو کروایا گیا کنٹرولڈ دورہ بھی طالبانی دعوں کو آگ لگا دینے کے مترادف ہے ۔حالانکہ انہیں معلومات تک آزادانہ رسائی دی گئی نہ لوگوں سے بات کرنے کی سہولت ، صحافیوں کو صرف وہی دکھایا گیا جو طالبانی دکھانا چاہتے تھے ۔یہ تمام حقائق ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: طالبان نے اس واقعے کو ایک پروپیگنڈا مہم کے طور پر استعمال کیا۔ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، متضاد بیانات دیے گئے، اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے برعکس، دستیاب شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ حملہ ایک عسکری ہدف پر کیا گیا تھا، اور کسی ہسپتال یا خالص سویلین مرکز کو نشانہ بنانے کا دعوی بے بنیاد ہے۔
پاکستان کو چاہئے کہ طوفان کذب بیانی سے متاثر ہوئے بغیر طالبان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس واقعہ کی آزادانہ تحقیقات میں تعاون کرے اور جواب دے کہ خالصتاً جنگی سامان کے ایک اڈے پر اس نے سویلینز کو کیوں رکھا تھا ۔