اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ اس عزم کا اظہار ہفتے کے روز اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور ازبکستان کے علاقے نوائی کے گورنر نورمت تورسونوف نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جن میں پاکستان کی جانب سے سیکریٹری صنعت و پیداوار اور فوڈ سیکیورٹی سیف انجم، ایڈیشنل سیکریٹری آصف سعید لغمانی، جوائنٹ سیکریٹری فریدون اکرم شیخ اور دیگر سینیئر افسران شامل تھے۔ جبکہ ازبک وفد میں سفیر علیشیر تختائیف، ڈپٹی گورنر ایلبیک غفاروف اور سفارتی اہلکار روشان جمانوف نے شرکت کی۔
ملاقات کے دوران ازبک وفد کی جانب سے پاکستان سے زندہ جانوروں کی برآمد سے متعلق ایک اہم تجویز پیش کی گئی جس پر تفصیلی غور کیا گیا۔ دونوں فریقین نے فارماسیوٹیکل، چمڑے کی صنعت اور زرعی اجناس کے شعبوں کو مستقبل کے تعاون کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ اس کے علاوہ، گوشت کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے اور تجارتی رکاوٹیں دور کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بزنس ٹو بزنس روابط کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی معاشی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ نجی شعبے کے درمیان بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ معاون خصوصی ہارون اختر خان نے ازبک وفد کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان علاقائی رابطوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت بہت جلد ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ازبکستان کا دورہ کرے گا۔
اجلاس کے اختتام پر معاون خصوصی ہارون اختر خان نے ازبک گورنر کو خیر سگالی کے طور پر تحفہ پیش کیا۔ دونوں اطراف سے باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا ایک نیا باب شروع ہوگا۔
دیکھئیے:آسٹریا کا ازبکستان کے راستے افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ