نادرا کے کرپٹ عناصر کی وجہ سے کئی پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور انہیں جیل میں رکھا گیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد پاکستان کے حقیقی شہری ہیں۔ بلاک کارڈز کی تصدیق اور مناسب قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہری ذہنی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں

March 24, 2026

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی پیشکش قبول کر لی ہے، وفود رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے

March 24, 2026

ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ داعش خراسان کے دو آذری کارندے کاظم غور اور محمد یونس گرفتار کر لیے گئے

March 24, 2026

معروف تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کا دعویٰ؛ پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ترین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے

March 24, 2026

رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 11 منٹ پر اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

March 24, 2026

امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے

March 23, 2026

حکومتِ پاکستان کو پشتون قوم کے لیے داخلہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے

نادرا کے کرپٹ عناصر کی وجہ سے کئی پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور انہیں جیل میں رکھا گیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد پاکستان کے حقیقی شہری ہیں۔ بلاک کارڈز کی تصدیق اور مناسب قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہری ذہنی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں
نادرا کے کرپٹ عناصر کی وجہ سے کئی پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے اور انہیں جیل میں رکھا گیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد پاکستان کے حقیقی شہری ہیں۔ بلاک کارڈز کی تصدیق اور مناسب قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہری ذہنی اذیت اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہیں

پاکستان کے پشتون علاقوں میں بلاک شناختی کارڈز اور غلط گرفتاریوں نے شہریوں کا اعتماد نظام انصاف اور ریاست پر متاثر کیا ہے

March 24, 2026

اس حوالے سے ميں نے تحقیق کی کہ پاکستانی شہریوں خصوصاً سابقہ فاٹا قبائل اور خيبر پختونخوا کے شہریوں کے شناختی کارڈ کیوں بلاک ہوتے ہیں اور کیا وجہ ہے جو انہیں افغان شہری سمجھ کر قید کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں مجھے جتنی معلومات ملیں ان میں سب سے بڑی دو وجوہات یہ ہیں۔ ایک تو نادرا کے بعض کرپٹ عناصر بھاری رقوم لے کر افغانستان کے کسی شہری کا نام کسی پاکستانی شہری کے علم میں لائے بغیر ان کے خاندان نمبر ( فيملی ٹری ) میں ڈال دیتے تھے تو جب اس افغان باشندے کا پتا چل جاتا تو اس کی وجہ سے اس سارے خاندان کے شناختی کارڈ تب تک بلاک کر دیے جاتے ہیں جب تک وہ اپنے مشران یا علاقہ معززین یا متعلقہ ضلع کے پولیٹیکل ایجنٹ سے تصدیق نہ کرواتے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ 1978 کے افغان روس جنگ کے بعد جن افغان شہریوں نے ان علاقوں میں رہائش اختیار کی تو وہاں پر اپنے شناختی دستاویزات بنوا کر پاکستان کے شہری بن گئے جس کی وجہ سے ان کے شناختی کارڈ بلاک کر کے انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق دونوں کے ساتھ پاکستان کے آئین کے تحت الگ الگ رویہ رکھنا چاہیے تھا کیونکہ پاکستان کے اصل شہریوں کے کارڈ اگر بلاک بھی ہوں تو انہیں گرفتار کرنے کی بجائے ان سے تصدیق مانگنی چاہیے جو کہ ان کا آئینی حق ہے اور دوسرے نمبر والوں کو گرفتار کر کے ان کے شناختی کارڈ اپنی تحویل میں لے کر ختم کر کے افغانستان بھیجنا چاہیے اور ساتھ ہی نادرا کے کرپٹ عناصر کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

نادرا کے اس طرح کے کرپٹ افسران پکڑے بھی گئے اور پاکستان کے بہت سارے شہریوں کے بلاک شناختی کارڈ اصل دستاویزات دیکھ کر ان بلاک بھی کر دیے گئے ہیں مگر اب بھی بہت سارے ایسے پاکستانی شہری ہیں جنہیں گرفتار کر کے افغان مہاجرین کے لیے بنائے گئے سب جیل میں مہینوں سے قید کيا گيا ہے حتیٰ کہ کچھ سے انگوٹھے لگوا کر ڈی پورٹ کرنے کے لیے چمن بارڈر بھی بھیجوا دیا گیا مگر افغانستان کے گیٹ سے ان کو واپس کر دیا گیا کہ یہ پاکستانی ہیں اور انہیں لینے سے انکار کر دیا گیا۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان لوگوں نے قید بھی کاٹی، بارڈر پر بھی لے جائے گئے اور واپس پھر اس قید خانے میں پہنچ گئے تو ان کا مستقبل کیا ہوگا اور اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ آیا ان خاندانوں کے افراد ذہنی مریض نہیں بنیں گے یا ان کا اپنی ریاست کے نظام پر سے اعتبار نہیں اٹھے گا؟ کیونکہ ایک تو ان کا خاندانی نظام درہم برہم ہو گیا دوسرا شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں اور تو اور ان کے بچوں کا تعلیمی سلسلہ رک گیا ہے جو کہ کل کے اچھے شہری بننے کے بجائے خدانخواستہ ملک دشمن عناصر کے ہتھے چڑھ جائیں اور ان کے کچے ذہن ان کے کنٹرول میں آ کر کچھ غلط نہ کر گزریں۔

ايک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ جو کوئی پاکستانی اپنے کسی رشتہ دار سے ملنے جاتا ہے اسے بھی افغانستان کا سہولت کار قرار دے کر حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ یا تو اپنے پاکستانی رشتہ دار سے ملنے گیا ہوتا ہے یا محلے کا باعزت شہری ہونے کے ناطے کسی پڑوسی کے ساتھ اس لیے گیا ہوتا ہے کہ لوگ ان کے گھر امید کے ساتھ قانونی مدد کے لیے آئے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ روایت رہی ہے کہ گھر آنے والے سائل کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اس کے ساتھ قانون کے دروازے تک جایا جاتا ہے تاکہ اس کی رہنمائی کی جا سکے اور یہ واضح کیا جا سکے کہ متعلقہ خاندان کسی بھی طرح ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ مگر افسوس کہ اسی عمل کو بھی بعض اوقات غلط انداز میں سہولت کاری قرار دے دیا جاتا ہے۔

بلاک شناختی کارڈ کے حوالے سے وزیرستان کی ایک خاتون صحافی اور کالم نگار روخانہ رحیم وزیر کا کیس اب بھی سوشل میڈیا اور نیوز میں تازہ ہے کہ ان کی فیملی کو دسمبر 2025 میں گرفتار کر کے تورخم بارڈر بھیجا مگر وہاں افغان حکومت نے ان کو نہیں لیا کہ یہ ہمارے شہری نہیں ہیں تو ان کو اسلام آباد کے حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے، انہوں نے ہائی کورٹ میں کیس کیا اور بقول ان کے خاندانی ذرائع کے کہ ان کے والد کو نادرا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا جو اپنی صفائی میں سب دستاویزات پیش کرتے جس کی وجہ سے ان کے خلاف فیصلہ آیا اور سارا خاندان اب بھی حاجی کیمپ میں ہے۔

جيسا کہ میرا تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب کے مندوخیل قبیلے سے ہے اور ذیلی شاخ ايرب زئی سے تعلق گاؤں بوبي ايرب زئی،گدائی خيل انور کا پڑپوتا، صالح گل کا پوتا اور محمد گل کا بیٹا ہوں اور مندوخیل قبیلے کا سردار محمد ایوب مندوخیل ہے تو اسی طرح قبائل کی تصدیق کا طریقہ کار بهی بہت آسان ہے کیونکہ ہمارے قبائلی نظام میں قبیلہ بہت زیادہ بڑا نہیں ہوتا کہ اس میں ایک خاندان کی پہچان نہ ہو سکے بلکہ علاقے میں قبیلے کا سربراہ کسی حیل و حجت کے بغیر تصدیق اور تردید کر دیتا ہے کہ فلاں میرے قبیلے کا ہے یا نہیں اور اسی وجہ سے اتنا لمبا چوڑا طریقہ کار بھی نہیں کہ وہ مہینوں جیل میں رہیں بلکہ اگر آج کارڈ بلاک بھی ہو جائے تو گھر کا سربراہ ایک ہفتے کے اندر گاؤں سے تصدیق کروا سکتا ہے تو خاندان کی خواتین اور بچوں کو قید کرنا کبھی بھی انصاف نہیں۔

ان کے لیے مجھ سمیت اے وی ٹی خیبر کے معروف اینکر حسن خان، معروف صحافی سبوخ سید اور ان میں اہلیہ رابعه سید نے بھی سوشل میڈیا اور نیوز ويب پر آواز اٹھائی کہ اگر وہ افغان شہری ہیں تو بے شک انہیں افغانستان بھیجا جائے اور اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو انہیں باعزت بری کیا جائے مگر سب کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔

اس کیس کو دہرانے کی بھی دو وجوہات ہیں، ایک یہ کہ اگر پاکستان کی کسی لکھاری شہری کا بھروسہ اپنے نظام انصاف، عدالت اور انتظامیہ سے اٹھ جائے تو اس کا قلم اگر اپنے ملک کے حق میں لکهتا رہا ہے، اسلام آباد کچہری دھماکے کی مذمت اور شہدا سے یکجہتی کے اظہار کے لیے اٹھ سکتا تھا تو خدانخواستہ اگر اس نظام انصاف کے خلاف اٹھے تو پاکستان ایک محب وطن شہری کو کھو سکتا ہے لہٰذا اس باعزت صحافی کو خاندان سمیت حاجی کیمپ سے باعزت گھر بھیجنا چاہیے۔

حکومت وقت اور وزارت داخلہ کے لیے میری یہی تجویز ہے بلکہ گزارش ہے کہ ایسے پاکستانی شہریوں کو جیل میں رکھنے کی بجائے اپنے گھر سے عزت سے اپنی دستاویزات ثبوتوں سمیت پیش کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ وہ پاکستان سے ویسے بھی حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں نکل سکتے اور اگر کوئی پاکستانی ہے تو وہ ملک چھوڑ کر بھلا کیوں جائے گا کیونکہ اس کا گاؤں اور قبرستان اسی سرزمین پر ہے اور یہ بھی ہم سب جانتے ہیں کہ انسان اگر ساری زندگی بيرون ملک گزار بھی دے مگر وہ دفن ہونا اپنے ہی قبرستان میں پسند کرتا ہے۔

لہٰذا میری یہی درخواست ہے کہ اگر پشتون قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو یہ ایک حقیقت جان لینی چاہیے کہ ساری پشتون قوم بے شک من حیث القوم افغان ہیں مگر ہر پشتون افغانستان کا شہری نہیں بلکہ جن پشتونوں کے علاقے پاکستان میں ہیں وہ پاکستانی ہیں تو پاکستان کے پشتونوں کو پاکستان کے آئین کے مطابق پاکستانی شہری کے پورے حقوق حاصل ہیں اور داخلہ پالیسی میں یہ بات واضح کر دینی چاہیے کہ حالیہ آپریشن میں بلاک پاکستانیوں کو قید کرنے کی بجائے بلاک ہونے کے ایک يا دو ماہ کے اندر اندر حکومت کو اپنے سارے ثبوت پیش کرنے چاہئیں اور اگر نہ پیش کر سکا تب گرفتار کر کے ملک بدر کرنا چاہیے۔اپنے شہریوں کو اپنے رویّے اور پالیسیوں سے باغی مت بنائیں کیونکہ اگر کوئی پاکستانی شہری بے گناہ قید میں سڑتا رہے گا تو لازماً وہ مایوسی کا شکار ہوگا اور یہی مایوسی اسے ایسے راستوں پر لے جا سکتی ہے جہاں وہ ملک مخالف عناصر کے ساتھ جا کھڑا ہو۔

اگر اربابِ اختیار تک میری یہ تجاویز پہنچ جائیں اور ان پر عمل درآمد ہو جائے اور داخلہ پالیسیوں میں ضروری تبدیلیاں کر لی جائیں تو مجھے یقین ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی کے تحفظات دور ہو جائیں گے اور آئینی اداروں پر اعتماد میں اضافہ ہوگا جو یقیناً ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک نے پاکستان کی پیشکش قبول کر لی ہے، وفود رواں ہفتے اسلام آباد پہنچیں گے

March 24, 2026

ضلع اورکزئی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ داعش خراسان کے دو آذری کارندے کاظم غور اور محمد یونس گرفتار کر لیے گئے

March 24, 2026

معروف تجزیہ کار مائیکل کوگلمین کا دعویٰ؛ پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ترین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے

March 24, 2026

رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 11 منٹ پر اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر شروع کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

March 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *