پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج سہ پہر 3 بجے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم پریس کانفرنس میں سامنے آئے گا۔

September 25, 2026

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب مارچ اس کی آخری کوشش ہوگی اور اس کے بعد وہ دوبارہ وفاقی دارالحکومت کا رخ نہیں کر سکے گی۔

September 25, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کیلئے مشاورت ہوئی ہے، یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور پی ٹی آئی جلد لانگ مارچ ختم کرنے والی ہے۔

September 25, 2026

چمن سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے 60 سے 70 دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کا حملہ ناکام بناتے ہوئے 40 سے 45 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

September 25, 2026

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے 260 افغان شہریوں کی مکمل تفصیلات، تصاویر اور شواہد سامنے آ گئے ہیں۔

September 25, 2026

برطانیہ، فرانس اور امریکا میں پرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک پر حملوں کے بعد ہزاروں افراد گرفتار ہوئے اور عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں۔

September 25, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ روکنے کا مشن: پاکستان، ترکیہ اور مصر کی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں؛ اسلام آباد میں آئندہ ہفتے مذاکرات متوقع

امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے
پاکستان کا عالمی ثالث کے طور پر ابھار

پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی روابط اور عالمی فورمز پر مؤثر مؤقف نے اسے ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے

March 23, 2026

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے امریکا اور ایران کے درمیان بیک ڈور سفارتکاری کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ سفارتی حلقوں کے مطابق ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد مذاکرات متوقع ہیں، اور یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ یہ بات چیت اسلام آباد میں ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے، تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے تاحال کسی براہ راست مذاکرات کی تصدیق نہیں کی۔ اس صورتحال میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور بیک ڈور ڈپلومیسی کو کلیدی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

حالیہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران پیش رفت میں تیزی آئی ہے، جہاں پاکستان، ترکیہ اور مصر کے اعلیٰ حکام نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے علیحدہ علیحدہ رابطے کیے۔ ان رابطوں کو “بیک چینل میسجنگ” قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فوری معاہدہ نہیں بلکہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ٹرمپ کا بڑا بیان: ایران بات چیت چاہتا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ انہوں نے ایران کی “قابل احترام اعلیٰ قیادت” سے بات چیت کی ہے اور امید ہے کہ مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اگر ڈیل ہو گئی تو یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ نہیں چاہتا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ افزودہ یورینیم حوالے کرے اور مستقبل میں اسے حاصل نہ کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے حق میں نہیں، اور اسرائیل بھی حالیہ پیش رفت پر مطمئن ہے۔

یہ بیانات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ پس پردہ جاری سفارتکاری اب ایک ممکنہ معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کا بڑھتا سفارتی کردار

تجزیہ کاروں کے مطابق اس ثالثی عمل میں پاکستان کا کردار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک عالمی سیاست میں تیزی سے ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔یومِ پاکستان کے موقع پر دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات کا موصول ہونا بھی اسی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان نے نہ صرف اس عمل میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ باضابطہ طور پر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اگر دونوں فریق آمادہ ہوں تو اسلام آباد کسی بھی وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد عالمی ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جس پر بڑی طاقتیں بھی اعتماد کرنے لگی ہیں۔ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی روابط اور عالمی فورمز پر مؤثر مؤقف نے اسے ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے

فنانشل ٹائمز کا دعویٰ: ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان رابطہ

اس پیش رفت کے درمیان فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہ راست رابطہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو ٹرمپ سے گفتگو کی جس میں پاکستان نے خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ثالث کے طور پر پیش کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سینئر پاکستانی حکام امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور انہوں نے ایرانی حکام، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان رابطے کروائے۔

اس سے قبل رائٹرز بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری بیک چینل سفارتکاری کی تصدیق کر چکا ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان اس عمل کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

ترکیہ اور مصر کے ساتھ ہم آہنگی

اس سفارتی عمل میں ترکیہ اور مصر بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے عندیہ دیا کہ ایران بیک چینل رابطوں کے لیے آمادہ ہے، جبکہ مصر بھی پیغامات کی ترسیل اور رابطہ کاری میں شریک ہے۔

یہ تینوں ممالک اب ایک مشترکہ سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی تنازعات کے حل میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسلامی بلاک کی جھلک اور بڑی حکمت عملی

ریاض میں حالیہ دنوں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نے ایک ابھرتے ہوئے اسلامی سکیورٹی اور سفارتی بلاک کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکا ایران ثالثی کی کوششیں اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت مسلم دنیا کے بڑے ممالک مشترکہ طور پر عالمی تنازعات میں کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ رہے ہیں۔

عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ

ماہرین کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، دفاعی صلاحیت، اور مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی پوزیشن دیتے ہیں۔

چین، خلیجی ممالک، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مضبوط ہوتے تعلقات نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر ابھارا ہے جو نہ صرف اپنے خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

کیا اسلام آباد بنے گا تاریخی مقام

اگرچہ ابھی تک اسلام آباد میں کسی باضابطہ ملاقات کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ تیاریاں جاری ہیں اور اگر پیش رفت برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں براہ راست مذاکرات بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہوگی اور اس سے عالمی سطح پر اس کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔

یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان محض ایک علاقائی ریاست نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ملک بن رہا ہے جو عالمی تنازعات میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان کا ابھرتا عالمی کردار

موجودہ صورتحال ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے جہاں پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ صرف ایک سفارتی کوشش نہیں بلکہ ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہے، جہاں اسلام آباد عالمی تنازعات کے حل میں ایک مرکزی مقام حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

دیکھئیے:امریکا ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان، ترکیہ اور مصر متحرک، اہم سفارتی پیشرفت

متعلقہ مضامین

پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج سہ پہر 3 بجے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم پریس کانفرنس میں سامنے آئے گا۔

September 25, 2026

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب مارچ اس کی آخری کوشش ہوگی اور اس کے بعد وہ دوبارہ وفاقی دارالحکومت کا رخ نہیں کر سکے گی۔

September 25, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کیلئے مشاورت ہوئی ہے، یہ کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور پی ٹی آئی جلد لانگ مارچ ختم کرنے والی ہے۔

September 25, 2026

چمن سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے 60 سے 70 دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کا حملہ ناکام بناتے ہوئے 40 سے 45 حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *