امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں وزارتِ اطلاعات کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک خصوصی صحافتی تربیتی سیشن کے دوران جس ‘میڈیا ضبط’ اور ‘اسلامی اخلاقیات’ پر مبنی حکمتِ عملی کا نقشہ کھینچا ہے، زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ تحقیقات اور عالمی اداروں کی رپورٹس یہ ثابت کرتی ہیں کہ کابل کی یہ پالیسی درحقیقت ‘اخلاق’ کے لبادے میں پراپیگنڈا اور معلومات پر گرفت کا ایک ذریعہ ہے، جہاں قول اور فعل کے درمیان ایک وسیع بُعد موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تربیتی نشست کے دوران صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ دشمن کے خلاف بھی کسی قسم کی توہین آمیز زبان، تضحیک یا گالی گلوچ سے مکمل گریز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امارت کی قیادت کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ جتنا کوئی شخص دوسروں کی تذلیل کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے، وہ معاشرے کی نظر میں خود اتنا ہی ذلیل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے وقار کو ملحوظ رکھنا چاہیے اور میڈیا کو اشتعال انگیزی کے بجائے شائستگی کا گہوارہ بنانا چاہیے، کیونکہ اسلامی قانون دشمن کی بے عزتی کی اجازت نہیں دیتا۔
انسانی جان کی حرمت
ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی گفتگو میں سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے دشمن کی گالیوں پر صبر و تحمل کی بات کی، لیکن اسوہِ حسنہ کا سب سے اہم پہلو ‘انسانی جان کی حرمت’ ہے۔ سیرتِ طیبہﷺ سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا اور فتحِ مکہ کے موقع پر بھی خونریزی سے گریز فرمایا۔ تاہم اس کے برعکس زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود مسلح گروہ اور دہشت گرد عناصر مسلسل پاکستان میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کہاں دشمن کی گالیوں پر تحمل کا دعویٰ اور کہاں پڑوسی ملک میں مسلح گروہوں کے ذریعے قتل و غارت گری اور اپنی اصلیت دکھانا؟ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ کابل کی پالیسی میں ‘نرم گفتگو’ صرف ایک بیانیہ ہے، جو اوروں کو حکم دے رہے ہیانیہ سازی تو کر رہے ہیں مگر خود “تنسون انفسکم” کی عملی تصویر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
دعوی اور حقیقت
ملا ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ امارت اسلامیہ نے کبھی شیعہ یا سنی کی بنیاد پر فرق پیدا نہیں کیا اور تمام شہریوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تحقیقات کے مطابق ہزارہ (شیعہ) اکثریتی علاقوں میں نصابِ تعلیم سے شیعہ مذہبی کتب کو ہٹا دیا گیا ہے، جو ذبیح اللہ مجاہد کے “ایک ہی کمیونٹی” کے دعوے کی صریح نفی اور فرقہ وارانہ امتیاز کا واضح ثبوت ہے۔
میڈیا ضبط یا معلومات پر سخت سینسر شپ؟
ذبیح اللہ مجاہد نے ‘درستگی اور تصدیق’ کو میڈیا پالیسی کا حصہ قرار دیا، مگر بین الاقوامی صحافتی اداروں کے اعداد و شمار کچھ اور بتاتے ہیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق افغانستان میں سینکڑوں صحافیوں کو صرف اس لیے حراست میں لیا گیا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے کابل کے سرکاری بیانیے سے ہٹ کر حقائق بیان کرنے کی کوشش کی۔ کابل میں ہونے والے دھماکوں یا سرحدی جھڑپوں میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو چھپانا یا انہیں انتہائی کم کر کے پیش کرنا حقائق کی شفافیت نہیں بلکہ معلومات اور میڈٰا پر گرفت ہے، جو کہ براہِ راست ‘نبوی سچائی’ کے اصول کے خلاف ہے۔
تنقید کے لیے محدود جگہ اور سیاسی جبر
ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “دشمن پیدا نہ کرنا ہماری پالیسی ہے”، لیکن عملاً ہر وہ صدا جو امارت کی پالیسیوں، بالخصوص خواتین کی تعلیم پر تنقید کرے، اسے ‘دشمن’ یا ‘مغرب کا ایجنٹ’ قرار دے دیا جاتا ہے۔ افغان پروفیسر اسماعیل مشعل اور دیگر دانشوروں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں “اختلافِ رائے” کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں اختلاف کرنے والے کو پابند سلاسل کر دیا جائے، وہاں میڈیا ضبط کی باتیں محض ایک سفارتی لبادہ معلوم ہوتی ہیں۔