خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے مشترکہ اجلاس میں امریکا اور ایران کے مابین حالیہ سفارتی پیش رفت اور مفاہمت میں پاکستان اور قطر کے کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔

June 26, 2026

جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور خلیجی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے پر پابندی کا انتباہ دیا ہے۔

June 26, 2026

پاکستان نے آزاد کشمیر میں سڑکوں کی بندش سے متعلق بی بی سی اردو کی یکطرفہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے برطانوی ادارے کے خلاف باضابطہ احتجاج درج کرا دیا ہے۔

June 26, 2026

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

June 25, 2026

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

June 25, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

June 25, 2026

کابل کی میڈیا پالیسی: ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے بمقابلہ حقیقت

افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کی میڈیا پالیسی کی تحقیق؛ انسانی جان کی حرمت سے لے کر اقلیتوں کے حقوق تک طالبان کے قول و فعل میں موجود واضح تضادات
افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد کی میڈیا پالیسی کی تحقیق؛ انسانی جان کی حرمت سے لے کر اقلیتوں کے حقوق تک طالبان کے قول و فعل میں موجود واضح تضادات

ملا ذبیح اللہ مجاہد کی 'صبر و تحمل' کی بات اور افغانستان سے پاکستان میں حملے کا تضاد ظاہر کرتا ہے کہ کابل کی نرم گفتگو فقط ایک بیانیہ ہے

March 24, 2026

امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں وزارتِ اطلاعات کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک خصوصی صحافتی تربیتی سیشن کے دوران جس ‘میڈیا ضبط’ اور ‘اسلامی اخلاقیات’ پر مبنی حکمتِ عملی کا نقشہ کھینچا ہے، زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ تحقیقات اور عالمی اداروں کی رپورٹس یہ ثابت کرتی ہیں کہ کابل کی یہ پالیسی درحقیقت ‘اخلاق’ کے لبادے میں پراپیگنڈا اور معلومات پر گرفت کا ایک ذریعہ ہے، جہاں قول اور فعل کے درمیان ایک وسیع بُعد موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تربیتی نشست کے دوران صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ دشمن کے خلاف بھی کسی قسم کی توہین آمیز زبان، تضحیک یا گالی گلوچ سے مکمل گریز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امارت کی قیادت کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ جتنا کوئی شخص دوسروں کی تذلیل کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے، وہ معاشرے کی نظر میں خود اتنا ہی ذلیل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے وقار کو ملحوظ رکھنا چاہیے اور میڈیا کو اشتعال انگیزی کے بجائے شائستگی کا گہوارہ بنانا چاہیے، کیونکہ اسلامی قانون دشمن کی بے عزتی کی اجازت نہیں دیتا۔

انسانی جان کی حرمت

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی گفتگو میں سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے دشمن کی گالیوں پر صبر و تحمل کی بات کی، لیکن اسوہِ حسنہ کا سب سے اہم پہلو ‘انسانی جان کی حرمت’ ہے۔ سیرتِ طیبہﷺ سے ثابت ہے کہ آپﷺ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا اور فتحِ مکہ کے موقع پر بھی خونریزی سے گریز فرمایا۔ تاہم اس کے برعکس زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود مسلح گروہ اور دہشت گرد عناصر مسلسل پاکستان میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کہاں دشمن کی گالیوں پر تحمل کا دعویٰ اور کہاں پڑوسی ملک میں مسلح گروہوں کے ذریعے قتل و غارت گری اور اپنی اصلیت دکھانا؟ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ کابل کی پالیسی میں ‘نرم گفتگو’ صرف ایک بیانیہ ہے، جو اوروں کو حکم دے رہے ہیانیہ سازی تو کر رہے ہیں مگر خود “تنسون انفسکم” کی عملی تصویر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

دعوی اور حقیقت

ملا ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ امارت اسلامیہ نے کبھی شیعہ یا سنی کی بنیاد پر فرق پیدا نہیں کیا اور تمام شہریوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تحقیقات کے مطابق ہزارہ (شیعہ) اکثریتی علاقوں میں نصابِ تعلیم سے شیعہ مذہبی کتب کو ہٹا دیا گیا ہے، جو ذبیح اللہ مجاہد کے “ایک ہی کمیونٹی” کے دعوے کی صریح نفی اور فرقہ وارانہ امتیاز کا واضح ثبوت ہے۔

میڈیا ضبط یا معلومات پر سخت سینسر شپ؟

ذبیح اللہ مجاہد نے ‘درستگی اور تصدیق’ کو میڈیا پالیسی کا حصہ قرار دیا، مگر بین الاقوامی صحافتی اداروں کے اعداد و شمار کچھ اور بتاتے ہیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق افغانستان میں سینکڑوں صحافیوں کو صرف اس لیے حراست میں لیا گیا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہوں نے کابل کے سرکاری بیانیے سے ہٹ کر حقائق بیان کرنے کی کوشش کی۔ کابل میں ہونے والے دھماکوں یا سرحدی جھڑپوں میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو چھپانا یا انہیں انتہائی کم کر کے پیش کرنا حقائق کی شفافیت نہیں بلکہ معلومات اور میڈٰا پر گرفت ہے، جو کہ براہِ راست ‘نبوی سچائی’ کے اصول کے خلاف ہے۔

تنقید کے لیے محدود جگہ اور سیاسی جبر

ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “دشمن پیدا نہ کرنا ہماری پالیسی ہے”، لیکن عملاً ہر وہ صدا جو امارت کی پالیسیوں، بالخصوص خواتین کی تعلیم پر تنقید کرے، اسے ‘دشمن’ یا ‘مغرب کا ایجنٹ’ قرار دے دیا جاتا ہے۔ افغان پروفیسر اسماعیل مشعل اور دیگر دانشوروں کی گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں “اختلافِ رائے” کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں اختلاف کرنے والے کو پابند سلاسل کر دیا جائے، وہاں میڈیا ضبط کی باتیں محض ایک سفارتی لبادہ معلوم ہوتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے مشترکہ اجلاس میں امریکا اور ایران کے مابین حالیہ سفارتی پیش رفت اور مفاہمت میں پاکستان اور قطر کے کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔

June 26, 2026

جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور خلیجی اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے پر پابندی کا انتباہ دیا ہے۔

June 26, 2026

پاکستان نے آزاد کشمیر میں سڑکوں کی بندش سے متعلق بی بی سی اردو کی یکطرفہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے برطانوی ادارے کے خلاف باضابطہ احتجاج درج کرا دیا ہے۔

June 26, 2026

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

June 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *