استنبول: ترکی کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر کبریٰ کارااصلان کی مبینہ خودکشی نے سوشل میڈیا صارفین اور مداحوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا، جبکہ مشہور شخصیات کی ذہنی صحت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 21 سالہ کبریٰ کارااصلان نے ترکی کے علاقے گیبزے میں واقع عثمان غازی پل سے چھلانگ لگا دی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبریٰ کو پل کی حفاظتی ریلنگ پر چڑھتے دیکھا، جس پر موقع پر موجود افراد اور ڈرائیورز نے انہیں روکنے کی بھرپور کوشش کی، مگر وہ نہ رک سکیں۔
واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی افراد انہیں اس اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں پانی سے نکال کر اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
کبریٰ کارااصلان سوشل میڈیا پر لائف اسٹائل کانٹینٹ کے حوالے سے جانی جاتی تھیں اور ان کے ہزاروں فالوورز تھے۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف مداحوں کو افسردہ کیا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ بظاہر کامیاب نظر آنے والی شخصیات اندرونی طور پر کس قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کی دنیا میں شہرت، دباؤ، تنقید اور تنہائی جیسے عوامل نوجوان انفلوئنسرز کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دیکھئیے:شوبز میں ہراسانی کے خلاف آواز بلند کرنے پر علیزے شاہ نے عینا آصف کی بھرپور حمایت کی