اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

May 19, 2026

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

May 19, 2026

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

May 19, 2026

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

May 19, 2026

کے پی میں فتنہ الخوارج کے خلاف عوامی ردعمل، وال چاکنگ کے ذریعے نفرت کا اظہار

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے۔ پشاور، چارسدہ اور کوہاٹ سمیت مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے خوارج کے سرغنہ نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دے دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں فتنہ الخوارج کے خلاف بڑے پیمانے پر وال چاکنگ؛ عوام نے پشاور، چارسدہ اور کوہاٹ کی دیواروں پر نور ولی محسود کو علماء اور اسلام کا قاتل لکھ کر شدید نفرت کا اظہار کیا۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف صوبے کے غیور عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ فتنہ الخوارج کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف اب عوام باقاعدہ طور پر میدان میں آ گئے ہیں، جس کا واضح ثبوت صوبے کے مختلف اضلاع میں خوارج اور ان کی قیادت کے خلاف ہونے والی بڑے پیمانے پر وال چاکنگ ہے۔

حاصل شدہ تصاویر کے مطابق خیبر پختونخوا کے اہم اضلاع بشمول ت پشاور، چارسدہ، کوہاٹ اور باڑہ سمیت متعدد علاقوں میں چوراہوں، گلیوں اور عوامی مقامات کی دیواروں پر فتنہ الخوارج کے خلاف چاکنگ کی گئی ہے۔ عوام نے دیواروں پر خوارج کے سرغنہ نور ولی محسود کی تصاویر کے ساتھ لال رنگ سے ہاتھ کا نشان بنا کر “لعنت” لکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف عوامی بیزاری اور شدید نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دیواروں پر واضح اور جلی حروف میں درج نعروں میں کہا گیا ہے کہ “خوارج، اسلام کے قاتل” اور “خوارج، علماء کے قاتل” ہیں۔ اس عوامی مہم نے ثابت کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اب دہشت گردوں کے کسی بھی گمراہ کن اور خودساختہ مذہبی بیانیے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مقامی ائمہ اور جید علماء کرام پر ہونے والے بزدلانہ حملوں کے بعد عوام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان خوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ صرف معصوم مسلمانوں اور دین کے محافظوں کے خون کے پیاسے ہیں۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وال چاکنگ اس بات کا واشگاف اعلان ہے کہ دہشت گرد اب عوامی ہمدردی سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔ ماضی میں خوف کی فضا قائم کرنے والے ان عناصر کو اب گلی محلوں میں شدید عوامی مزاحمت اور نفرت کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صوبے کو دوبارہ دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ان خوارج کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

دیکھیے: کے پی میں بدامنی اور دہشت گردی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد، ناقص گورننس پر شدید ردعمل

متعلقہ مضامین

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

May 19, 2026

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

May 19, 2026

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

May 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *