خیبر پختونخوا میں بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف صوبے کے غیور عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ فتنہ الخوارج کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف اب عوام باقاعدہ طور پر میدان میں آ گئے ہیں، جس کا واضح ثبوت صوبے کے مختلف اضلاع میں خوارج اور ان کی قیادت کے خلاف ہونے والی بڑے پیمانے پر وال چاکنگ ہے۔
حاصل شدہ تصاویر کے مطابق خیبر پختونخوا کے اہم اضلاع بشمول ت پشاور، چارسدہ، کوہاٹ اور باڑہ سمیت متعدد علاقوں میں چوراہوں، گلیوں اور عوامی مقامات کی دیواروں پر فتنہ الخوارج کے خلاف چاکنگ کی گئی ہے۔ عوام نے دیواروں پر خوارج کے سرغنہ نور ولی محسود کی تصاویر کے ساتھ لال رنگ سے ہاتھ کا نشان بنا کر “لعنت” لکھا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف عوامی بیزاری اور شدید نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دیواروں پر واضح اور جلی حروف میں درج نعروں میں کہا گیا ہے کہ “خوارج، اسلام کے قاتل” اور “خوارج، علماء کے قاتل” ہیں۔ اس عوامی مہم نے ثابت کر دیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اب دہشت گردوں کے کسی بھی گمراہ کن اور خودساختہ مذہبی بیانیے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مقامی ائمہ اور جید علماء کرام پر ہونے والے بزدلانہ حملوں کے بعد عوام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان خوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ صرف معصوم مسلمانوں اور دین کے محافظوں کے خون کے پیاسے ہیں۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وال چاکنگ اس بات کا واشگاف اعلان ہے کہ دہشت گرد اب عوامی ہمدردی سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔ ماضی میں خوف کی فضا قائم کرنے والے ان عناصر کو اب گلی محلوں میں شدید عوامی مزاحمت اور نفرت کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے صوبے کو دوبارہ دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ان خوارج کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
دیکھیے: کے پی میں بدامنی اور دہشت گردی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد، ناقص گورننس پر شدید ردعمل