شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 18 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کیا گیا، جس میں فورسز کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
دہشت گردوں کی فرار کی کوشش
آپریشن کے دوران ایک انتہائی تشویش ناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب کچھ مقامی افراد کی جانب سے ہلاک ہونے والے خوارج کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں قانون کی گرفت سے بچانے کی کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ چند مقامی سہولت کاروں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے دہشت گردوں کو اپنے گھیرے میں لیا تاکہ انہیں محفوظ راستہ فراہم کر کے فرار کروایا جا سکے۔
انسانی ڈھال کا استعمال
علاقائی امور کے ماہرین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی سطح پر موجود یہ سہولت کاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔
خوارج روایتی طور پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے مقامی آبادی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سہولت کاروں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف ملکی سلامتی کے دشمن ہیں بلکہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے پورے خطے کے امن و امان اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
دہشت گردوں کا خاتمہ
ان تمام تر چیلنجز اور رکاوٹوں کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے اور خوارج کے ساتھ ساتھ ان کے تمام مقامی و بیرونی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز پوری طرح پرعزم ہیں اور چن چن کر ان شرپسند عناصر کا صَفایا کیا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
دیکھیے: کے پی میں دہشت گردانہ واقعات کے باوجود اپوزیشن کی توجہ اڈیالہ جیل احتجاج پر مرکوز