"> شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 18 خوارج جہنم واصل - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 18 خوارج جہنم واصل

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔
شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 18 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے مقامی سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔

May 19, 2026

شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ایک بڑا اور کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 18 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کیا گیا، جس میں فورسز کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

دہشت گردوں کی فرار کی کوشش

آپریشن کے دوران ایک انتہائی تشویش ناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب کچھ مقامی افراد کی جانب سے ہلاک ہونے والے خوارج کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں قانون کی گرفت سے بچانے کی کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ چند مقامی سہولت کاروں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے دہشت گردوں کو اپنے گھیرے میں لیا تاکہ انہیں محفوظ راستہ فراہم کر کے فرار کروایا جا سکے۔

انسانی ڈھال کا استعمال

علاقائی امور کے ماہرین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی سطح پر موجود یہ سہولت کاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔

خوارج روایتی طور پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے مقامی آبادی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سہولت کاروں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف ملکی سلامتی کے دشمن ہیں بلکہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے پورے خطے کے امن و امان اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

دہشت گردوں کا خاتمہ

ان تمام تر چیلنجز اور رکاوٹوں کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے مکمل خاتمے اور خوارج کے ساتھ ساتھ ان کے تمام مقامی و بیرونی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز پوری طرح پرعزم ہیں اور چن چن کر ان شرپسند عناصر کا صَفایا کیا جا رہا ہے تاکہ علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

دیکھیے: کے پی میں دہشت گردانہ واقعات کے باوجود اپوزیشن کی توجہ اڈیالہ جیل احتجاج پر مرکوز

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *