ازبکستان اور یوکرین کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات میں مسلسل بہتری کا رجحان جاری ہے، جس کے نتیجے میں سال 2026 کے ابتدائی مہینوں میں تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ازبکستان کی نیشنل اسٹیٹسٹکس کمیٹی کی جانب سے 31 مارچ 2026 کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا مجموعی حجم 35.4 ملین ڈالر رہا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار گزشتہ سال یعنی جنوری 2025 کے 31 ملین ڈالر کے مقابلے میں 14.2 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات نے اس پیش رفت کو نہایت مثبت قرار دیا ہے، کیونکہ اگر اس کا موازنہ جنوری 2024 کے 18.1 ملین ڈالر کے حجم سے کیا جائے تو یہ دو سالوں میں تقریباً دوگنا یعنی 95.6 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں اور یوکرین، ازبکستان کے سرفہرست 20 تجارتی شراکت داروں میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اقتصادی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ازبکستان کی مجموعی غیر ملکی تجارت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جو جنوری 2026 میں 5.8 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہ حجم 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1.32 ارب ڈالر یا 29.2 فیصد زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں تجارتی سرگرمیاں مجموعی طور پر عروج پر ہیں، جیسا کہ گزشتہ سال ترکمانستان اور یورپی یونین کے درمیان بھی تجارتی حجم دوگنا ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ازبکستان کی اس معاشی ترقی کو عالمی منڈیوں میں اس کی بڑھتی ہوئی رسائی اور کامیاب تجارتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: عالمی امن اور مسلم ریاستیں: مغربی بیانیے کے تضادات اور تاریخی حقائق