"> عالمی امن اور مسلم ریاستیں: مغربی بیانیے کے تضادات اور تاریخی حقائق - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عالمی امن اور مسلم ریاستیں: مغربی بیانیے کے تضادات اور تاریخی حقائق

یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریات نے ہر دور میں امن کے بجائے جنگ اور اصلاح کے بجائے فساد کی آبیاری کی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی موڑ ہو، یہودیت نے ہمیشہ سازشوں کے جال بن کر مستحکم ریاستوں میں انتشار پھیلایا اور بھائی کو بھائی سے دست و گریبان کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔
امریکی قانون ساز کے بیان کے تناظر میں مسلم ریاستوں کی قیامِ امن کی جدوجہد، مغربی بیانیے کے تضادات اور یہودیت کی تاریخی و عصری شرپسندی کا ایک جامع تجزیہ

یہ اداریہ عالمی امن کے قیام میں مسلم ریاستوں کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتا ہے اور یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے فتنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے مغربی پرپیگنڈے کی حقیقت واضح کرتا ہے

March 31, 2026

امریکی قانون ساز کے حالیہ اشتعال انگیز بیان نے ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں واقعی خطوں میں استحکام کی خواہاں ہیں یا اب بھی وہی پرانی معاندانہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ موصوف کی جانب سے مسلم حکومتوں کی قانونی حیثیت کو نشانہ بناتے ہوئے عوام کو اکساوا دینا نہ صرف سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی ہے۔ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ دنیا اب بھی بعض خود مختار ریاستوں کو ایک آزاد ملک کے بجائے محض ایک ‘تجربہ گاہ’ کے طور پر دیکھ رہی ہے، جہاں اپنی سیاسی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی بھی وقت انتشار کا بیج بویا جا سکتا ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ بیانات اکثر مذہب اور سیاست کو ایک ہی متعصب اور تنگ نظر زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے نہ صرف زمینی حقائق مسخ ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایسی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جن کا ازالہ برسوں ممکن نہیں ہوتا۔ کسی بھی مذہب یا قدیم تہذیب کو ایک مخصوص اور منفی بیانیے میں قید کرنا سفارتی نزاکتوں کے قطعی منافی ہے، کیونکہ جب بااثر عہدیدار ایسی زبان استعمال کرتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر مکالمے کے دروازے بند ہونے اور تہذیبوں کے درمیان ٹکراؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

تاریخ کے اوراق کا غیر جانبدارانہ مطالعہ شاہد ہے کہ مسلم ریاستوں نے ہمیشہ اور ہر دور میں امن و آشتی کے علم کو بلند رکھا ہے۔ مسلم امہ کی تاریخ عدل و انصاف، رواداری اور انسانی جان کی حرمت سے عبارت ہے۔ چاہے وہ دورِ اول کی فتوحات ہوں یا عہدِ حاضر کی سفارت کاری، مسلم ریاستوں نے ہمیشہ خونریزی کو روکنے اور انسانیت کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔ اس کے برعکس اگر انسانیت کو درپیش فتنوں اور عالمی بدامنی کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی جڑیں ہمیشہ اس مخصوص ذہنیت میں پیوست نظر آتی ہیں جسے ‘ذریتِ یہود’ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

یہودیت کے بطن سے جنم لینے والے نظریات نے ہر دور میں امن کے بجائے جنگ اور اصلاح کے بجائے فساد کی آبیاری کی ہے۔ تاریخ کا کوئی بھی موڑ ہو، یہودیت نے ہمیشہ سازشوں کے جال بن کر مستحکم ریاستوں میں انتشار پھیلایا اور بھائی کو بھائی سے دست و گریبان کر کے اپنے مفادات حاصل کیے۔ ان کا بنیادی وطیرہ ہی ‘جنگ برائے جنگ’ اور ‘فساد برائے فساد’ رہا ہے، جہاں انسانی جانوں کا زیاں ان کے لیے محض ایک سیاسی شطرنج کی چال سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

آج کی جیو پولیٹیکل صورتحال، بالخصوص حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں بھی یہی نقشہ واضح ہے۔ ایک طرف مسلم ریاستیں ہیں جو اپنی تمام تر جغرافیائی اور سیاسی حدود کے باوجود سرفہرست رہ کر جنگ بندی، معصوموں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ پاکستان سمیت ترکیہ اور مصر جیسے ممالک نے ثابت کیا ہے کہ اسلام کا اصل پیغام امن کی بحالی ہے، نہ کہ تخریب کاری۔ دوسری طرف وہی مخصوص یہودی لابی ہے جو جدید اسلحہ اور پراپیگنڈا مشینری کے ذریعے پوری دنیا کو آگ اور خون کے کھیل میں دھکیل رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ عناصر جو خود بدامنی کے سب سے بڑے بیوپاری ہیں اور جن کی بقا ہی جنگ و جدل میں پوشیدہ ہے، بڑی عیاری سے امن کے داعی مسلمانوں کو ‘دہشت گرد’ اور ‘غیر قانونی’ قرار دینے کا طعنہ دیتے ہیں۔

یہ ایک سوچی سمجھی عالمی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے یہودی شرپسندی کے سیاہ چہرے کو چھپایا جاتا ہے اور ان قوتوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے جو درحقیقت اس فتنے کا نشانہ بن رہی ہیں۔ مغربی ایوانوں سے اٹھنے والی آوازیں دراصل اس سچائی سے فرار کی کوشش ہے کہ مسلم دنیا خود ان مخصوص یہودی سازشوں اور بیرونی مداخلت کا سب سے بڑا ہدف رہی ہے۔ لہٰذا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسلم ریاستوں کی مخلصانہ کوششوں کی قدر کرے اور ان فتنہ پرور عناصر کی حقیقت کو پہچانے جو انسانیت کو دائمی فساد کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔

دیکھیے: امتِ مسلمہ کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہوگا؛ اسحاق ڈار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *