آج دنیا بھر میں ’عالمی یومِ حقائق جوئی‘ منایا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد معلومات کے اس ہجوم میں سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ صحافت کی بنیاد ہی حقائق کی غیر جانبدارانہ فراہمی پر استوار ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے پاک افغان تعلقات کے حالیہ تناظر میں سرحد پار سے صحافت کے لبادے میں جس طرح ’ڈس انفارمیشن‘ یا غلط معلومات کو ایک نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس نے پیشہ ورانہ صحافت کے اعلیٰ اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ عرصے میں افغان صحافتی حلقوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف جس طرح کا بے بنیاد بیانیہ ترتیب دیا گیا، وہ تحقیق سے مکمل عاری اور سراسر عناد پر مبنی نظر آتا ہے۔ اس کی واضح مثال وہ مضحکہ خیز دعوے ہیں جن میں کابل میں ہونے والی عسکری کاروائیوں کا من گھڑت ردعمل لاہور جیسے شہروں میں دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی۔
اسی طرح چند روز قبل کراچی کے ایک معزز اور معروف کاروباری شخصیت کو ’داعش‘ کا اہم ذمہ دار قرار دے کر ان کی تصاویر کو دہشت گردی سے جوڑنا محض ایک اتفاقی غلطی نہیں بلکہ ایک منظم پراپیگنڈہ مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی گمراہ کن رپورٹنگ سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ کابل کے کئی نام نہاد صحافتی ادارے حقائق کی تصدیق کے بنیادی ضابطوں سے یا تو ناواقف ہیں یا دانستہ طور پر ان سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔
پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان میڈیا کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا وہاں کے صحافتی عملے کو ازسرِ نو پیشہ ورانہ تربیت اور اخلاقی درس کی اشد ضرورت ہے؟ صحافت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی حساس خبر کی اشاعت سے قبل اس کے مستند ذرائع سے تصدیق کی جائے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر مصدقہ اکاؤنٹس سے اٹھائی گئی افواہوں کو ادارتی تائید کے ساتھ شہ سرخیوں میں جگہ دی جا رہی ہے۔ جب صحافت میں ذاتی تعصب، سیاسی وابستگی اور مخصوص ریاستی بیانیہ شامل ہو جائے تو وہ خبر کے بجائے ایک خطرناک ہتھیار بن جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی کے معاملات پہلے ہی انتہائی پیچیدہ ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کی جانب سے غلط خبروں کی مسلسل تشہیر جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ چاہے وہ عسکریت پسندوں کی نام نہاد پناہ گاہوں کے حوالے سے غلط بیانی ہو یا سرحدی کارروائیوں کے من گھڑت قصے، یہ ڈس انفارمیشن نہ صرف سفارتی کوششوں کو ثبوتار کرتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نفرت کی خلیج کو بھی وسیع کرتی ہے۔
عالمی یومِ حقائق جوئی کے موقع پر یہ پیغام دینا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ صحافت کا اصل منصب انسانیت کی فلاح اور حقائق کا غیر مبہم ابلاغ ہے۔ افغان میڈیا کے لیے یہ وقت گہرے محاسبے کا ہے کہ وہ اپنی تیزی سے گرتی ہوئی عالمی ساکھ کو بچانے کے لیے ’فیکٹ چیکنگ‘ کے بین الاقوامی معیارات کو اپنائے۔ سچ کو مسخ کرنے کی کوششیں کچھ دیر کے لیے میدان اپنے نام تو کر سکتی ہے، مگر وہ کبھی بھی حقیقت کا سورج نہیں چھپا سکتیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان صحافتی ادارے اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں، پراپیگنڈے کے سحر سے باہر نکلیں اور اپنے قارئین تک وہی معلومات پہنچائیں جو سچائی کی کسوٹی پر پوری اترتی ہوں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو تاریخ ان کے اس رویے کو صحافت کے نام پر ایک ایسی سیاہ کاری کے طور پر یاد رکھے گی جس نے خطے کے امن کو داؤ پر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔