"> پاکستان کے مصالحتی کردار پر عرب ناقدین کے اعتراضات؛ اسلام آباد کا دو ٹوک جواب - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کے مصالحتی کردار پر عرب ناقدین کے اعتراضات؛ اسلام آباد کا دو ٹوک جواب

بعض عرب صحافیوں کا مؤقف ہے کہ اتحادی ملک ثالث نہیں بن سکتا، اس لیے پاکستان کو غیر جانبداری کے بجائے براہِ راست جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔ تاہم تجزیہ کار اس سوچ کو پیچیدہ صورتحال کو خطرناک حد تک سادہ بنانے اور سفارتی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہیں
بعض عرب صحافیوں کا مؤقف ہے کہ اتحادی ملک ثالث نہیں بن سکتا، اس لیے پاکستان کو غیر جانبداری کے بجائے براہِ راست جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔ تاہم تجزیہ کار اس سوچ کو پیچیدہ صورتحال کو خطرناک حد تک سادہ بنانے اور سفارتی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہیں

پاکستان کا ثالثی کردار اور عرب ممالک کا ردعمل: کیا محض عسکری طاقت سے امن ممکن ہے؟ ایران امریکہ کشیدگی پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف

April 2, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے تحت شروع کیے گئے مصالحتی کردار پر بعض عرب حلقوں کی تنقید سامنے آئی ہے۔ اس تنقید کے جواب میں ماہرینِ تزویراتی امور اور پاکستانی مؤقف کے حامی حلقوں نے حقائق پر مبنی بیانیہ جاری کیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ جذباتیت کے بجائے زمینی حقائق اور جنگی حکمتِ عملی کو سمجھنا خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

عرب مؤقف کا جائزہ

بعض عرب صحافیوں کی جانب سے یہ بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے کہ “ایک اتحادی، ثالث نہیں ہو سکتا اور ایک ثالث، اتحادی نہیں رہ سکتا”۔ ان کا اصرار ہے کہ چونکہ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ دیرینہ اور تاریخی تعلقات ہیں، اس لیے اسے غیر جانبدار رہنے یا مصالحتی کردار ادا کرنے کے بجائے براہِ راست جنگ کا حصہ بننا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال کو ‘ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف’ کی سادہ اور خطرناک تقسیم میں بدلنے کے مترادف ہے، جو سفارتی نزاکتوں کے منافی ہے۔

میدانِ جنگ کی حقیقت

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض عرب ممالک اس مرحلے پر جنگ کے خاتمے کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اس میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے عرب بھائیوں سے چند تلخ مگر ضروری سوالات پوچھے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی بے پناہ فوجی طاقت کے باوجود، جو کچھ وہ حاصل نہیں کر سکے، کیا وہ عرب ممالک کی شمولیت سے ممکن ہو پائے گا؟ اب تک کی کارروائیوں میں ایران کا سیاسی و فوجی ڈھانچہ، فضائیہ، بحریہ، ایٹمی تنصیبات اور میزائل پروگرام شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ ماہرین پوچھتے ہیں کہ جب بنیادی انفراسٹرکچر پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے، تو اب مزید کیا تباہ کرنا باقی ہے؟ کیا 90 ملین کی آبادی والے ملک، جہاں کی عوام ریاست کے ساتھ کھڑی ہے، وہاں زمینی فوج اتار کر قبضہ کرنا ممکن ہے؟

مستقل امن کی حکمتِ عملی

پاکستان، جس کے پاس جنگوں کا وسیع تجربہ ہے، اس بات کا واضح پغام دیتا ہے کہ ‘جنگ کا خاتمہ’ مجموعی حکمتِ عملی کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے۔ اگر جنگ ختم کرنے کی حکمتِ عملی غلط ہو جائے تو امن ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ شکست خوردہ فریق کو کبھی اس حد تک ذلیل نہیں کرنا چاہیے کہ وہ دوبارہ انتقام کی آگ میں جلے؛ ‘معاہدہ ورسائی’ اس کی بڑی تاریخی مثال ہے۔ ایران عسکری طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اسے دوبارہ قدموں پر کھڑا ہونے میں دہائیاں لگیں گی، لہذا اب وقت عسکری مہم جوئی کا نہیں بلکہ سیاسی حل کا ہے۔

علاقائی مستقبل اور بقائے باہمی

پاکستان کا مؤقف ہے کہ امریکہ جلد یا بدیر اس خطے سے نکل کر دیگر محاذوں کی طرف متوجہ ہو جائے گا، لیکن عربوں، فارسیوں، ترکوں اور پاکستانیوں کو اسی خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ اگر آج نسل در نسل دشمنی کے بیج بو دیے گئے تو مستقبل میں امن ناممکن ہوگا۔ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کی پائیدار سلامتی کا خواہاں ہے اور اسے یقین ہے کہ اب مزید خون خرابے کے بجائے ایک ایسا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے جو تمام فریقین کے لیے باعزت اور قابلِ قبول ہو، تاکہ خطے میں دیرپا استحکام آ سکے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *