سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاک چین امن منصوبہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ چین اب ایک نیا عالمی نظام تشکیل دینے کی جانب گامزن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ چین میں جن نکات پر اتفاق ہوا ہے، وہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیجنگ موجودہ جنگی صورتحال کے بعد دنیا کے نقشے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا پاکستان کی سفارتی کوششوں کی معترف ہے۔ امریکہ کی داخلی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں نے بائیڈن انتظامیہ کو مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
امریکہ کا کردار
پروگرام میں شریک ماہرِ بین الاقوامی امور عادل نجم نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کے مطابق اسرائیل جنگ کو طویل کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اب اس صورتحال سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ دوسری جانب صحافی و تجزیہ کار افتخار فردوس نے واضح کیا کہ خطے کی مجموعی صورتحال میں سب سے بڑے اسٹیک چین کے ہیں، اسی لیے وہ امن کے لیے سرگرم ہے۔
ایران اور عالمی قوتوں کا اعتماد
اعزاز چوہدری نے ایران کے مؤقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تہران کو پاکستان اور چین کی ثالثی پر مکمل اعتماد ہے، تاہم اسے امریکہ کی نیت پر شبہ ہے کہ آیا واشنگٹن واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ طویل ہوئی تو خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کی صورت میں ممکن ہے وہ اہداف کے حصول کا اعلان کر کے جنگ رکوا دیں۔