وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت اور بعض بھارتی پراپیگنڈا سیلز کی جانب سے پاک افغان سرحد پر لگی خاردار باڑ ہٹانے کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق 2,640 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد کا دشوار گزار علاقہ پاکستان کی سیکیورٹی افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے اور اسے محفوظ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں، اسمگلروں اور مجرمانہ گروہوں کے ساتھ مل کر خطے میں دراندازی کی کوششیں کر رہی ہے۔
بے بنیاد دعوے
حکام نے واضح کیا کہ طالبان میڈیا کی جانب سے شیئر کی جانے والی تمام ویڈیوز گمراہ کن معلومات پھیلانے کی ایک دانستہ مہم کا حصہ ہیں۔ یہ کلپس اکثر محض چند لمحات کی سرگرمی دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور پھر فوری طور پر ہٹا لیے جاتے ہیں، جو طالبان کے پروپیگنڈا ہتھکنڈوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان جعلی ویڈیوز کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے، جبکہ حقیقت ان کے بیانیے کے بالکل برعکس ہے۔
سرحدی سکیورٹی برقرار
سرحدی دفاع کو نقصان پہنچانے کے دعوؤں کے برعکس، وزارتِ اطلاعات نے زور دیا کہ پاک افغان سرحدی باڑ مکمل طور پر برقرار ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی خلاف ورزی کی کوشش کا پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فوری اور بھرپور جواب دیا جاتا ہے۔
شکست کے بعد جھوٹ کا سہارا
رپورٹ کے مطابق طالبان کے حالیہ من گھڑت دعوے دراصل آپریشن ‘غضب للحق’ کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کا شاخسانہ ہیں۔ پاکستانی افواج نے اس آپریشن کے دوران 250 سے زائد سرحدی چوکیاں تباہ کیں اور کئی اہم پوزیشنز پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس شکست کے بعد اپنی پوزیشن کمزور ہوتے دیکھ کر طالبان اپنی داخلی عوام کو مطمئن کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید کہا کہ افغان طالبان اور ان کے بھارتی سرپرست ماضی میں بھی پاکستانی فوجی اثاثوں پر قبضے اور جعلی ڈرون حملوں جیسے بے بنیاد دعوے کرنے کے حوالے سے بدنام رہے ہیں۔ ان مسلسل جھوٹے بیانات نے عالمی سطح پر افغان طالبان اور ان کے میڈیا آؤٹ لیٹس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آخر میں واضح کیا گیا کہ سچ ہمیشہ جھوٹے بیانیے پر غالب رہے گا۔