"> افغان منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ: کابل کا پاکستان پر الزام تراشی کا نیا حربہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ: کابل کا پاکستان پر الزام تراشی کا نیا حربہ

افغانستان کی جانب سے پاکستان پر اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کا بے بنیاد الزام، ماہرین نے اسے کابل کی اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا
افغان وزارتِ دفاع کا ننگرہار میں اسلحہ اور منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ۔ تجزیہ کاروں نے پاکستانی اسمگلنگ کے الزامات کو مضحکہ خیز اور عالمی توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے

افغان وزارتِ دفاع کا ننگرہار میں اسلحہ اور منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ۔ تجزیہ کاروں نے پاکستانی اسمگلنگ کے الزامات کو مضحکہ خیز اور عالمی توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے

April 9, 2026

افغان وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرحدی افواج نے صوبہ ننگرہار کے مختلف علاقوں میں کامیاب کاروائی کے دوران پاکستان سے اسمگل کیا جانے والا بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات برآمد کر لی ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق201 خالد بن ولید کور اور انٹیلیجنس اہلکاروں کو سرحدی علاقوں میں مشکوک نقل و حمل کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ننگرہار کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجے میں 13 دستی بم، 10 کارٹن چھپایا گیا اسلحہ و کارتوس اور 20 کلوگرام افیون برآمد کر کے قبضے میں لے لی گئی۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ ضبط کیا گیا یہ تمام مواد پاکستان سے غیر قانونی طور پر افغانستان منتقل کیا جا رہا تھا، جسے افغان دفاعی افواج نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

ماہرین کے مطابق افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان پر حالیہ الزامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ کابل کی اس روایتی الزام تراشی کا تسلسل ہے جس کا مقصد ہمیشہ اپنی داخلی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب افغان سرزمین پر موجود ‘فتنہ الخوارج’ اور دیگر دہشت گرد گروہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں، کابل کی جانب سے ثبوتوں کے بغیر اسمگلنگ کے دعوے کرنا عالمی برادری کی توجہ اصل حقائق سے ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں منشیات کے پھیلاؤ کا مرکز بننے والا ملک اب ان ریاستوں پر انگلیاں اٹھا رہا ہے جو خود اس لعنت اور سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہیں۔

نیز ایسے وقت میں جب چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اس قسم کے الزامات اور کاروائیاں سرحدی صورتحال پر گہری اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے ہمیشہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور اسمگلنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ایک مؤثر سکیورٹی اہلکاروں اور انتظامات پر زور دیا ہے۔

دیکھیے: افغان رہنما حاجی محمد محقق نے ایران۔امریکا کشیدگی کم کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *