"> مشرقِ وسطیٰ امن مشن سے اسرائیل ناخوش؛ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں، ماہرین کا انتباہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ امن مشن سے اسرائیل ناخوش؛ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں، ماہرین کا انتباہ

مشرقِ وسطیٰ امن مشن نازک مرحلے پر پہنچ گیا؛ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر عالمی ماہرین کا اظہارِ تشویش

April 9, 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی اور امن کی بحالی کا عمل اس وقت ایک انتہائی نازک مرحلے پر پہنچ گیا ہے۔ موجودہ کشیدہ ماحول کی وجہ سے فریقین کے درمیان تصادم کے خاتمے کا عمل کافی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق خطے میں کچھ ایسے عناصر سرگرم ہیں جو اپنے مخصوص اور ذاتی مفادات کی خاطر امن کے اس عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جیسا کہ پہلے سے توقع کی جا رہی تھی اسرائیل جنگ بندی کے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کو ایسے شرپسندی پر مبنی عناصر کے عزائم سے پوری طرح باخبر رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اسرائیل اس پورے معاملے میں سب سے بڑے تخریب کار کے طور پر سامنے آیا ہے جو مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں مسلسل مسائل پیدا کر رہا ہے۔

امن کے خواہشمند عالمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نازک وقت میں عالمی برادری کو نہ صرف چوکنا رہنا چاہیے بلکہ اسرائیل کے ان اقدامات کی بھرپور نشاندہی کرنی چاہیے جو خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

مزید برآں ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں حقیقی اور مستقل امن کی واپسی کے لیے امریکہ اور ایران دونوں کو اپنے اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنی ہوگی۔ پائیدار امن کا حصول صرف باہمی سمجھوتے اور مصالحتی رویے سے ہی ممکن ہے، جبکہ غیر لچکدار اور سخت مؤقف امن دشمن قوتوں کو اپنی سازشیں کامیاب بنانے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

دیکھیے: پاکستان نے بڑی جنگ رکوا دی، عالمی سطح پر بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم، مودی فارغ ہو چکا: خواجہ آصف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *