"> پاکستان نے بڑی جنگ رکوا دی، عالمی سطح پر بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم، مودی فارغ ہو چکا: خواجہ آصف - HTN Urdu پاکستان نے بڑی جنگ رکوا دی، عالمی سطح پر بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم، مودی فارغ ہو چکا: خواجہ آصف
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان نے بڑی جنگ رکوا دی، عالمی سطح پر بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم، مودی فارغ ہو چکا: خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کہا کہ “سب کو مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی، آج عالمی طاقتیں اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔”
خواجہ آصف کی بھارت پر تنقید

خواجہ آصف نے کہا کہ “سب کو مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی، آج عالمی طاقتیں اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔”

April 8, 2026

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایران۔امریکا جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی ایک بڑی جنگ رکوانے میں کامیاب ہوا اور عالمی سطح پر ایک بااعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ “سب کو مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی، آج عالمی طاقتیں اور عرب ممالک سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ کل تک جنگ کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی، جس کے بعد پاکستان ایک نئے سیاسی اور سفارتی دور میں داخل ہو رہا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے ملک میں استحکام آئے گا اور اب توجہ معیشت کی بحالی پر مرکوز کی جا سکے گی۔

انہوں نے سول و عسکری قیادت کے اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ “ہائبرڈ ماڈل” نے گزشتہ چند برسوں میں اہم کامیابیاں حاصل کیں اور یہ ثابت کیا کہ قومی قیادت یکجا ہو تو پاکستان عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “مودی فارغ ہو گیا، اس کے پاس کچھ نہیں رہا، بھارتی میڈیا اب تڑپتا رہے گا”، اور دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بڑے دشمن کو سفارتی محاذ پر شکست دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو داخلی محاذ، معیشت اور دہشت گردی کے چیلنجز پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ افغانستان کو بھی پاکستان کی میزبانی کا لحاظ کرنا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نے خطے میں اس کے کردار کو مزید مضبوط کیا ہے، تاہم داخلی استحکام اور معاشی بہتری اب اگلا بڑا چیلنج ہوگا۔

دیکھئیے:عالمی ثالث کے طور پر سوئٹزرلینڈ کا دور ختم: پاکستان اب عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز ہے، سوئس اخبار ‘بلک’ کا انکشاف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *