"> سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا جنگ بندی کے بعد پہلا سرکاری رابطہ، کشیدگی کم کرنے پر زور - HTN Urdu سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا جنگ بندی کے بعد پہلا سرکاری رابطہ، کشیدگی کم کرنے پر زور
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا جنگ بندی کے بعد پہلا سرکاری رابطہ، کشیدگی کم کرنے پر زور

امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا سرکاری رابطہ ہے جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی اور ایرانی وزیر خارجہ کا پہلا سرکاری رابطہ

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں حالیہ جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور مختلف ممالک کشیدگی کے خاتمے کیلئے متحرک ہیں۔

April 9, 2026

ریاض: امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلا باضابطہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ پر زور دیا گیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی فون کیا جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں کشیدگی کم کرنے، استحکام کے اقدامات کو فروغ دینے اور سفارتی روابط کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

حکام کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں حالیہ جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور مختلف ممالک کشیدگی کے خاتمے کیلئے متحرک ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلا سرکاری رابطہ ہے جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھئیے:وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *