پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی ‘اسلام آباد مذاکرات’ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس اہم موقع پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے خصوصی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں امریکی نائب صدر کی معاونت صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جناب جیرڈ کشنر نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔
پائیدار امن کا عزم
وزیراعظم آفس سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے وفود کی جانب سے مذاکراتی عمل میں تعمیری شمولیت کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بیٹھک خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ان مذاکرات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور اسے عالمی استحکام کے لیے ایک ناگزیر قدم سمجھتا ہے۔
ثالثی کا کردار
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے دونوں فریقین (امریکہ اور ایران) کے مابین معاونت کا عمل جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو امن کی بحالی کے لیے ایک پُل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اسلام آباد مستقبل میں بھی عالمی طاقتوں کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ سفارتی ماہرین اس ملاقات کو 1979 کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطوں کی بحالی میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔