مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

افغانستان میں اہل تشیع کی نسل کشی: ہرات میں آئی ایس کے پی کا وحشیانہ حملہ، طالبان کے سکیورٹی دعوے بے نقاب

ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے
ہرات میں مزار کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ طالبان دورِ حکومت میں آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی آپریشنل آزادی اور افغانستان کے دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے کی واضح نشاندہی کرتا ہے

افغانستان کے صوبہ ہرات میں شیعہ اجتماع پر آئی ایس کے پی کا وحشیانہ حملہ۔ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور اقلیتوں پر منظم حملے باعث تشویشناک

April 11, 2026

افغانستان کے صوبہ ہرات سے موصول ہونے والی تازہ ترین اور دل خراش اطلاعات کے مطابق ضلع انجیل میں ایک مزار کے قریب شیعہ شہریوں کے پرامن اجتماع پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ اگرچہ طالبان حکام کی جانب سے اس بزدلانہ واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم حملے کا طریقہ کار اور ہدف اس بات کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ آئی ایس کے پی کی اسی منظم مہم کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی افغانستان کے مختلف صوبوں میں شیعہ برادری کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

یہ حالیہ حملہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ طالبان کے دورِ حکومت میں افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک نسبتاً آزاد اور سازگار پناہ گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں آئی ایس کے پی جیسے سفاک گروہ بغیر کسی رکاوٹ کے مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

آئی ایس کے پی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں

ماہرینِ امورِ خارجہ اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہرات کا یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حادثہ نہیں بلکہ ایک وسیع اور مسلسل جاری رجحان کا حصہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ آئی ایس کے پی کو طالبان حکومت کے تحت بھی مکمل آپریشنل اسپیس حاصل ہے۔ اس گروہ کی آزادی اور رسائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں حساس ترین مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 5 ستمبر 2022 کو کابل میں روسی سفارت خانے پر ہونے والا خودکش حملہ اور 12 دسمبر 2022 کو چینی شہریوں کے زیرِ استعمال ہوٹل پر دھاوا شامل ہے۔

حال ہی میں 19 جنوری 2026 کو کابل کے علاقے ‘شہرِ نو’ میں ایک چینی ریسٹورنٹ کو نشانہ بنا کر غیر ملکیوں کو ہلاک کرنا اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد نیٹ ورک اب نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی مفادات پر وار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

منظم فرقہ وارانہ مہم اور نیٹ ورکس

آئی ایس کے پی کی جانب سے فرقہ وارانہ تشدد کی بنیاد اکتوبر 2021 میں قندوز اور قندھار کی مساجد پر ہونے والے خونی حملوں سے رکھی گئی تھی، جہاں درجنوں نمازیوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا گیا تھا۔ آج بھی یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں بشمول کابل، ہرات، جلال آباد اور شمالی علاقوں میں آئی ایس کے پی کے 2,000 سے 4,000 تربیت یافتہ جنگجو سرگرم عمل ہیں۔

طالبان کی جانب سے گروہ کے خاتمے کے دعوے ان حملوں کی شدت، وسعت اور تسلسل کے باعث انتہائی کمزور پڑ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فعال نیٹ ورکس اور مسلسل حملے اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ یہ گروہ افغانستان میں محض محدود نہیں بلکہ اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے اور اسے روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کا اجتماع

بین الاقوامی سطح پر بھی اس سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی رپورٹس کے مطابق اس وقت افغانستان کی سرزمین پر 20 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، جن کے جنگجوؤں کی مجموعی تعداد 10,000 سے 13,000 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ وسیع نیٹ ورک نہ صرف افغانستان کے شہریوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ہرات کے اس حالیہ واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں دہشت گرد گروہ نہ صرف موجود ہیں بلکہ مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور معصوم انسانی جانوں کا ضیاع طالبان کے سیکیورٹی سے متعلق بلند و بانگ دعوؤں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *