اسلام آباد میں جاری ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں بالمشافہ بات چیت کے بعد اب ماہرین کی سطح پر تحریری مسودوں کا تبادلہ جاری ہے۔ ایرانی حکومتی ذرائع کے مطابق سہ فریقی مذاکرات سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایرانی حکومتی اطلاعاتی کونسل کے سیکریٹری محمد گلزاری نے کہا کہ ایرانی وفد نے دن بھر مختلف اجلاسوں میں اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیا اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ ان کے مطابق بیروت پر حملوں کے خاتمے کی تصدیق، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر سخت مؤقف اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے نکات بھی بات چیت کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوا، بات چیت ماہرین کی سطح میں داخل ہو گئی اور ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے ارکان بھی اس مرحلے میں شریک ہو گئے، جبکہ یہ عمل تاحال جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق بالمشافہ مذاکرات کے ایک دور کے اختتام کے بعد ایرانی اور امریکی ماہرین پر مشتمل ٹیمیں اب زیر بحث امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہی ہیں، تاہم ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کا تکنیکی مرحلے میں داخل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ فریقین عملی پیش رفت کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی میزبانی میں یہ عمل عالمی سفارتکاری میں اسلام آباد کے بڑھتے کردار کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔
دیکھئیے:جنگ بندی کا دائرہ وسیع: ایران امریکا مذاکرات میں لبنان حملے بند کرنے پر اتفاق