"> اسلام آباد مذاکرات پر بحث: پاکستان نے بہترین میزبانی کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو میڈیا سرکس بننے سے روکا: عالمی صحافیوں کی حمایت - HTN Urdu اسلام آباد مذاکرات: پاکستان نے بہترین میزبانی کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو ‘میڈیا سرکس’ بننے سے روکا: عالمی صحافیوں کی حمایت
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات پر بحث: پاکستان نے بہترین میزبانی کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو میڈیا سرکس بننے سے روکا: عالمی صحافیوں کی حمایت

امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔
اسلام آباد مذاکراتی عمل

کچھ صحافیوں نے شکوہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ عالمی میڈیا کو اسلام آباد بلا کر ایک جدید میڈیا سینٹر میں رکھا گیا، تاہم نہ بریفنگ دی گئی اور نہ ہی مذاکراتی عمل تک براہِ راست رسائی فراہم کی گئی، جس کے باعث صحافیوں کو صورتحال کا واضح اندازہ نہیں ہو سکا۔

April 12, 2026

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران اطلاعات تک محدود رسائی پر بعض صحافیوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی صحافیوں نے اس عمل کو “میڈیا سرکس” بننے سے روکنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔

کچھ صحافیوں نے شکوہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ عالمی میڈیا کو اسلام آباد بلا کر ایک جدید میڈیا سینٹر میں رکھا گیا، تاہم نہ بریفنگ دی گئی اور نہ ہی مذاکراتی عمل تک براہِ راست رسائی فراہم کی گئی، جس کے باعث صحافیوں کو صورتحال کا واضح اندازہ نہیں ہو سکا۔

اس کے برعکس امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق “یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے”، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حساس مذاکرات میں معلومات کو کنٹرول کرنا سفارتی روایت کا حصہ ہے تاکہ فریقین بغیر دباؤ کے اہم فیصلے کر سکیں، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے بھی بچا جا سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے دوران اطلاعاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے صرف باضابطہ ذرائع سے معلومات جاری کیں، جس کا مقصد عمل کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ امن مذاکرات کو “میڈیا سرکس” میں تبدیل کرنے کے بجائے سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے، اور پاکستان نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کردار ادا کیا۔

دیکھئیے:ایران-امریکہ مذاکرات میں تعطل: پانچ بڑے اختلافات جو ممکنہ طور پر معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *