اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران اطلاعات تک محدود رسائی پر بعض صحافیوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی صحافیوں نے اس عمل کو “میڈیا سرکس” بننے سے روکنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔
کچھ صحافیوں نے شکوہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ عالمی میڈیا کو اسلام آباد بلا کر ایک جدید میڈیا سینٹر میں رکھا گیا، تاہم نہ بریفنگ دی گئی اور نہ ہی مذاکراتی عمل تک براہِ راست رسائی فراہم کی گئی، جس کے باعث صحافیوں کو صورتحال کا واضح اندازہ نہیں ہو سکا۔
اس کے برعکس امریکی صحافی کیٹلین ڈورن بوس نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کو لمحہ بہ لمحہ سرخیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق “یہ عمل میڈیا کوریج کیلئے نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے”، اور پاکستان نے بطور میزبان ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حساس مذاکرات میں معلومات کو کنٹرول کرنا سفارتی روایت کا حصہ ہے تاکہ فریقین بغیر دباؤ کے اہم فیصلے کر سکیں، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے بھی بچا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے دوران اطلاعاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے صرف باضابطہ ذرائع سے معلومات جاری کیں، جس کا مقصد عمل کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ امن مذاکرات کو “میڈیا سرکس” میں تبدیل کرنے کے بجائے سنجیدہ سفارتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے، اور پاکستان نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے کردار ادا کیا۔
دیکھئیے:ایران-امریکہ مذاکرات میں تعطل: پانچ بڑے اختلافات جو ممکنہ طور پر معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے