وزیراعظم نے اس موقع پر چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

April 23, 2026

جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ارکان نے استعفے نہ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ پیغام رساں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، اس لیے اتنا بڑا سیاسی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔

April 23, 2026

راولپنڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ راولپنڈیز کے باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے اسلام آباد کا کوئی بھی بلے باز زیادہ دیر پچ پر نہ ٹک سکا اور پوری ٹیم مقررہ 20 اوورز میں محض 137 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

April 23, 2026

افغانستان فی الوقت داخلی انتشار کی وجہ سے کسی بھی قسم کی توسیعی پسندانہ سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا “پشتونستان” یا “عظیم تر تاجکستان” جیسے غیر حقیقی تصورات نہ صرف خطے کو خونی تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں بلکہ لاکھوں انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

April 23, 2026

دھومے کا دعویٰ کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا پاکستان کی معیشت کی راہ میں رکاوٹ ہے، عالمی بینک اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.0 فیصد رہی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ ہوا اور ترسیلاتِ زر 35 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

April 23, 2026

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک تقریب کے دوران سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی پر کیچپ سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

April 23, 2026

ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار؛ 29 بحری جہاز واپس بھیج دیے گئے، امریکی سینٹرل کمانڈ

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب تک 29 جہازوں کو رخ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب تک 29 جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو غلط قرار دے دیا۔ سینٹکام کے مطابق امریکی افواج ناکہ بندی کے نفاذ کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔

April 23, 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے تمام سمندری راستوں پر ناکہ بندی کے نفاذ کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔

سینٹکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 29 بحری جہازوں کو ناکہ بندی کے ضوابط کی خلاف ورزی پر واپس مڑنے یا متعلقہ بندرگاہوں پر واپس جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ بیان میں ان خبروں کی تردید کی گئی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘ایم وی ہیرو II’، ‘ایم وی ہیڈی’ اور ‘ایم وی ڈورینا’ نامی تجارتی جہاز ناکہ بندی توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

امریکی حکام نے وضاحت کی کہ ایرانی پرچم والے ٹینکرز ‘ہیرو II’ اور ‘ہیڈی’ اس وقت ایران کی چابہار بندرگاہ پر لنگر انداز ہیں، جنہیں رواں ہفتے کے آغاز میں ہی امریکی افواج نے روک لیا تھا۔ اسی طرح ‘ڈورینا’ نامی جہاز، جس نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی تھی، اس وقت بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کے ایک تباہ کن جہاز کی سخت نگرانی میں ہے۔

سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ امریکی فوج کی رسائی عالمی سطح پر ہے اور امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے تک اس ناکہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے مستعد ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ ایران کی معاشی سپلائی لائنز کو منقطع کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

دیکھیے: اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہو سکتا ہے، ایران کے پاس مہلت محدود ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

متعلقہ مضامین

وزیراعظم نے اس موقع پر چینی صدر اور وزیراعظم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

April 23, 2026

جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ارکان نے استعفے نہ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ پیغام رساں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، اس لیے اتنا بڑا سیاسی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔

April 23, 2026

راولپنڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ راولپنڈیز کے باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے اسلام آباد کا کوئی بھی بلے باز زیادہ دیر پچ پر نہ ٹک سکا اور پوری ٹیم مقررہ 20 اوورز میں محض 137 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

April 23, 2026

افغانستان فی الوقت داخلی انتشار کی وجہ سے کسی بھی قسم کی توسیعی پسندانہ سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا “پشتونستان” یا “عظیم تر تاجکستان” جیسے غیر حقیقی تصورات نہ صرف خطے کو خونی تصادم کی طرف دھکیل سکتے ہیں بلکہ لاکھوں انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

April 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *