اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفوں کے حکم کے برعکس، فی الحال ایوان سے باہر نہ جانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں ارکان نے استعفے نہ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ پیغام رساں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے، اس لیے اتنا بڑا سیاسی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی نے اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں بھی واپسی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ارکان کا ماننا ہے کہ ایوان سے مکمل علیحدگی کے بجائے پارلیمانی عمل کا حصہ رہ کر بہتر طریقے سے اپنا کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ ارکان نے واضح کیا کہ پیغام لانے والے پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی نشستیں چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔
عمران خان کا قومی اسمبلی سے استعفوں کا حکم۔
— Usman Chaudhary (@Usman_Ch92) April 23, 2026
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا استعفے نا دینے کا فیصلہ
پیغام رساں پر اعتماد نہیں، اس لیے اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے۔
پی ٹی آئی ایم این ایز کا کمیٹیوں میں بھی واپس آنے کا امکان
سیاسی مبصرین اس فیصلے کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل قیادت کی جانب سے احتجاجاً استعفوں پر اصرار کیا جا رہا تھا، تاہم ارکان کی اکثریت نے پارلیمانی فورم کو برقرار رکھنے کے حق میں رائے دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیٹیوں میں واپسی سے پی ٹی آئی دوبارہ قانون سازی کے عمل میں اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گی۔
اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے اندرونی تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی ارکان باقاعدہ طور پر کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کا آغاز کر دیں گے۔