امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد، پاکستان کا طے شدہ دورہ اچانک منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے وفد کو ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے سے روک دیا ہے کیونکہ ان کے بقول اس طویل سفر میں وقت کا ضائع ہونا مقصود تھا اور ان کے پاس کرنے کو بہت سے دیگر اہم کام ہیں۔
ایرانی قیادت پر شدید تنقید
صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے اندرونی ڈھانچے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی قیادت اس وقت شدید اختلاف اور ابہام کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی نظام میں کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اصل میں کون انچارج ہے، یہاں تک کہ خود ایرانی حکام بھی اس صورتحال سے بے خبر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس غیر یقینی صورتحال کو مذاکرات کی منسوخی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) April 25, 2026
امریکی موقف اور مستقبل کا لائحہ عمل
امریکی صدر نے اپنے بیان میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اس وقت تمام تزویراتی فوائد امریکہ کے پاس ہیں جبکہ ایران کے پاس کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا کہ اگر وہ واقعی بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں براہِ راست رابطہ کرنا چاہیے، جس کے لیے انہیں صرف ایک فون کال کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد کے مصالحتی کردار پر اثرات
واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی روز سے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھلانے اور مذاکرات کی میزبانی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس حالیہ اعلان سے اسلام آباد میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہیں