وفاقی دارالحکومت کا جناح کنونشن سینٹر اس وقت بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات نے پاکستان کو عالمی نقشے پر “عالمی امن کا دل” بنا کر پیش کیا ہے۔ ان مذاکرات میں شریک غیر ملکی مندوبین نے پاکستان کے تزویراتی کردار کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے اسے ایک ‘شاندار’، ‘قابلِ اعتماد’ اور ‘حیرت انگیز’ ملک قرار دیا ہے۔
پاکستان کی مہمان نوازی
سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاحت اور ثقافت کو بھی اس وقت عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ مشہور آئرش نژاد فارسی سیاح شان ہیمنڈز نے پاکستان کو اپنی زندگی کی پسندیدہ ترین سیاحتی منزل قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی توجہ اس جانب مبذول کروا دی ہے۔ انہوں نے ‘ٹیکنگ دی پی آئی ایف’ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انہیں جس بے مثال مہمان نوازی کا تجربہ ہوا ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔



مثبت عالمی تاثر اور تزویراتی اہمیت
سفارتی اور سیاحتی حلقوں میں ان مثبت تاثرات کو پاکستان کے بدلتے ہوئے عالمی امیج اور ابھرتی ہوئی سیاحت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مندوبین کا ماننا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف دو بڑی طاقتوں کے درمیان برف پگھلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے بلکہ ایک محفوظ، مستحکم اور پرکشش ریاست کے طور پر بھی خود کو عالمی برادری کے سامنے منوایا ہے۔
ذمہ دار ریاست اور پرکشش مرکز
ماہرین کے مطابق عالمی مندوبین اور نامور سیاحوں کا یہ اعتراف اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان اب محض عالمی تنازعات کے حل میں ایک ذمہ دار کھلاڑی ہی نہیں رہا، بلکہ اپنی بھرپور ثقافت اور فطری خوبصورتی کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مرکز بن چکا ہے۔ اسلام آباد کی پرسکون فضاؤں میں ہونے والی یہ عالمی بیٹھک پاکستان کی ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک طاقت اور نرم تاثر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔