دوسوال بہت اہم ہیں ۔
پہلا سوال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اگر مزید کچھ عرصہ بند رہتی ہے تو اس کا زیادہ نقصان کس کو ہو گا؟ یورپ کو یا ایشیا کو؟
دوسرا سوال یہ ہے آبنائے ہرمز کے جو متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں وہ کون کون سے ہیں اور ان کا فائدہ کس کو ہو گا؟َ ایشیا کو یا یورپ کو؟
وطن عزیز میں ایک طبقہ لمحہ لمحہ قابل رحم ہوتا جا رہا ہے ۔ پاکستان امریکہ اور ایران میں جنگ بندی اور امن کی کوششیں کرے تو انہیں اس پربھی اعتراض ہوتا ہے، یہ فقرے اچھالتے اور گرہیں لگاتے ہیں ۔ دوسری طرف آبنائے ہزمز بند ہونے کی وجہ سے اگر پٹرول کی قیمتیں بڑھ جائیں تو یہ اس پر بھی دہائی دینے لگتے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جنگ کرکٹ میچ نہیں ہوتی کہ دیکھو ، تالیاں بجاؤ ، تبصرے کرو اور میچ کے ختم ہونے پر گھروں کو لوٹ جاؤ۔ جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔
میرے معزز قارئین میں سے جن ” انتہائی باشعور” اور “انتہائی اعلی تعلیم یافتہ “حضرات کو اس بات کی سمجھ نہ آئے وہ اپنے انقلابی ترانے گنگناتے ہوئے اور اپنی افتاد طبع کے تقاضوں کے عین مطابق دشنام طرازی کرتے ہوئے اس تحریر کو یہیں چھوڑ دیں ، آگے کا حصہ ان حضرات کے لیے ہے جو میری طرح نہ تو ” انتہائی اعلی تعلیم یافتہ” ہیں اور نہ ہی جنہیں “مطالعے کی عادت ” ہے۔
تو سوال وہی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے زیادہ نقصان کس کو ہو گا اور متبادل راستوں کا فائدہ کون اٹھائے گا؟
آبنائے ہر مز بند ہے۔ فی الوقت اس کا متبادل باب المندب ہے۔ فرض کریں بالمندب بھی بند ہو جاتی ہے تو کیا ہو گا؟ ان دونوں گزرگاہوں کی بندش کا زیادہ نقصان کسے ہو گا؟ نقصان بے شک یورپ کا بھی ہو گا لیکن کمر ایشیا کی ٹوٹے گی ۔ اس راستے سے ایران کا جتنا تیل جاتا ہے اس کا 80 فیصد چین خریدتا ہے۔ ایران کی ناکہ بندی ، مطلب چین اس تیل سے محروم ۔ اور ایران ایک اتنے بڑے خریدار سے محروم ۔ یہی نہں بلکہ چین سعودی عرب کے تیل کے بھی چند بڑے خریداروں میں شامل ہے۔
اسی طرح اس راستے سے خلیجی ممالک کا جتنا بھی تیل جاتا ہےا س کا 86 فیصد ایشیا کے ممالک کو جاتا ہے۔ یہ راستے بند تو اس کا مطلب ہے کہ ایشیا اپنے 86 فیصد تیل سے محروم ۔
یورپ تو پھر کچھ نہ کچھ کر لے گا ، سوال یہ ہے کہ ایشیا کیا کرے گا؟ ایشیا کو بھی چھوڑیے ، سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا کرے گا؟
صآآبنائے ہرمز اور باب المندب کے متبادل رستوں کو بھی دیکھ لیجیے ، ادھر ادھر بھاگم بھاگ ہو رہی ہے ۔ عراق ، شام ، عراق ، ترکیہ ، اردن ، ہر طرف متبادل راستوں کی دعوت عام ہے۔ سب دہائی دے رہے ہیں کہ ایران نے راستے بند کر دیے تو کیا ہوا ، ہم ہیں نا۔ جس ملک کے اخبارات دیکھیں وہاں شور مچا ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے کیس پریشانی ، ہم متبادل راستہ دیتے ہیں ۔
یہ متبادل رستے اگر چہ آبنائے ہرمز کا متبادل نہیں ، یہاں بہت سے مسائل بھی ہیں ، یہاں سے تیل کی سپلائی کی صلاحیت بھی محدود ہے ، یہ سارے مسائل اپنی جگہ لیکن ایک نکتہ بہت اہم ہے۔ وہ یہ ان راستوں سے تیل جہاں پہنچے گا اس منزل مقصود کا نام ایشیا نہیں بلکہ یورپ ہے۔ تو اگر سپلائی کم بھی ہوئی تو جب ایشیا کا تیل نہیں جا رہا اور صرف یورپ کا جارہا ہو تو وہ بھلے کافی نہ ہو لیکن جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے قابل ضرور ہو گا ۔ سوال تو یہ ہے کہ ایشیا کا کیا بنے گا؟ چین کے پاس تو ساڑھے تین ماہ کا تیل ذخیرہ ہوتا ہے ہمارا کیا بنے گا؟ ہم کتنے دن گزارا کر سکیں گے؟
مثال کے طور پر کرکوک بانیاس آئل پائپ لائن ، عراق سے شام اور آگے بحیرہ روم اور پھریورپ۔
مثال کے طور گیس ہے ، یہ پائپ لاین کے ذریعے قطر سے شام اور ترکی اور وہاں سے بحیرہ روم کے راستے یورپ۔
مثال کے طور پر سعودیہ اپنا تیل آبنائے اور باب المندب دونوں سے بھی نہ لا سکے تو وہ اوپر نہر سویز کی جانب جا سکتا ہے۔ یعنی جو تیل باب المندب کی طرف جاتا ہے وہ دوسری سمت نہر سویز کو چلا جائے اور وہاں سے بحیرہ روم ا ور آگے یورپ۔
مثال کے طور پر ابو ظہبی پائپ لائن ، حبشان سے فجیرہ اور فجیرہ پہنچ کر چاہے تو پرانے رستے پر جائیں اور چاہیں تو وہی نہر سویز سے بحیرہ روم ا ور وہاں سے یورپ۔
ان اور ان جیسے دو چار مزید متبادل راستوں میں کافی مسائل ہو سکتے ہیں لیکن ان تمام متبادل راستوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ یہ سارے یورپ کو جاتے ہیں ۔ سوال وہی ہے ایشیا کہاں کھڑا ہو گا۔
ہمارے نونہالوں کو تو امن کے لیے پاکستان کی کاوشیں بھی اچھی نہیں لگتیں اور پٹرول مہنگا ہونے پر بھی وہ چیخنے لگتے ہیں ۔ ان نونہالان کا کیا بنے گا؟ ان کا خیال ہے کہ جنگ بھی بانوے کا ورلڈ کپ ہوتی ہے ، دیکھی ، داد دی ، نعرے لگائےا ور پھر جھومتے لہراتے گھروں کو لوٹ گئے۔
امن مذاکرات کے لے پاکستان کی کاوشوں پر تنقید کے نا مبارک نشتر چلانے والے نابغے جان لیں کہ ابھی تو صرف پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، خدا نخواستہ پاکستان کا امن مشن ناکام ہوا تو پٹرول ہی نایاب ہو جانا ہے۔
پھر ہم تم ہوں گے ، ڈی چوک ہو گا اور بادل ہو گا اور رقص میں سارا جنگل ہو گا۔
نوٹ: ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔