Author: آصف محمود

دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جس ملک کی بیوروکریسی کے 22 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت ہو کیا اس ملک کی معیشت درست ہو سکتی ہے؟ جس ملک کے 22 ہزار فیصلہ ساز اس انتظار میں بیٹھے ہوں کہ ریٹائر ہوں اور اپنے دوسرے “وطن” منتقل ہو جائیں ، جنہیں پاکستان میں رہنا تک گوارا نہ ہو ، ان کے فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟

May 16, 2026

ہم بھارت کی طرح جنوں میں پاگل نہیں ہے۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں ۔ ہم جنگ میں بھی وحشت کی نذر نہیں ہوتے ، سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے ٹارگٹ اڑاتے ہیں ۔ ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ، ہم نے ان کی اعلی ترین عسکری قیادت کو لاک کیا اور اس کی ویڈیو بھجوا دی تا کہ سند رہے۔ ہمارے ڈرون بھارتی وزیر اعظم کے گھر پر اڑتے رہے ۔

May 10, 2026

انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔

May 2, 2026

جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔

April 26, 2026

قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی ہے ، ہم جیسوں کوبھی یقین تھا ، چھاؤں آئے گی۔ ہم نہیں دیکھیں گے تو ہماری آئندہ نسل دیکھے گی۔ مگر ہم نے کب یہ سوچا تھا کہ وقت کا موسم یوں بدل جائے گا۔ اچانک ہی، دیکھتے ہی دیکھتے، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔

April 18, 2026

واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔

April 12, 2026

برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔

April 4, 2026

امریکہ کی جانب سے اشارے تو مل رہے ہیں کہ وہ اس جزیرے پر قبضہ کرنے جا رہا ہے ۔ امریکہ اس وقت پھنسا پڑا ہے ۔ اس کی عزت داؤ پر لگ چکی ہے۔ وہ ایک اندھی طاقت بھی ہے۔ اس کی قیادت بھی ٹرمپ جیسے متلون مزاج انسان کے ہاتھ میں ہے جو انتہائی غلط فیصلہ بالکل درست وقت پر کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتا ہے

March 28, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔

March 15, 2026