آصف محمود پاکستان کے سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے قومی و بین الاقوامی اداروں سے منسلک ہیں اور ان کی تحاریر عالمی سطح پر قارئین میں بے حد مقبول ہیں۔
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جس ملک کی بیوروکریسی کے 22 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت ہو کیا اس ملک کی معیشت درست ہو سکتی ہے؟ جس ملک کے 22 ہزار فیصلہ ساز اس انتظار میں بیٹھے ہوں کہ ریٹائر ہوں اور اپنے دوسرے “وطن” منتقل ہو جائیں ، جنہیں پاکستان میں رہنا تک گوارا نہ ہو ، ان کے فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟
ہم بھارت کی طرح جنوں میں پاگل نہیں ہے۔ ہم ذمہ دار ریاست ہیں ۔ ہم جنگ میں بھی وحشت کی نذر نہیں ہوتے ، سوچ سمجھ کر ذمہ داری سے ٹارگٹ اڑاتے ہیں ۔ ہم سویلین کو ٹارگٹ نہیں کرتے ، ہم نے ان کی اعلی ترین عسکری قیادت کو لاک کیا اور اس کی ویڈیو بھجوا دی تا کہ سند رہے۔ ہمارے ڈرون بھارتی وزیر اعظم کے گھر پر اڑتے رہے ۔
انگلش تہذیب کا یہ مغالطہ ختم نہیں ہو پا رہا ہے کہ وہی مہذب ترین ہے۔ تاریخ کا ان کا مبلغ فہم یہ ہے کہ رومن امپائر کے خاتنمے کے بعد دنیا تاریکیوں میں ڈوب گئی یہاں تک کہ پھر یورپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی اور دنیا پھر سے مہذب اور تعلیم یافتہ ہو گئی۔ اس سارے عمل میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا اس کا یہ ذکر نہیں کرتے۔
جنگ جنگ ہوتی ہے جناب اور اس کے کچھ منطقی اثرات ہوتے ہیں۔ جنہیں جنگوں کا بہت شوق ہو اور امن کی کوششیں جنہیں اچھی نہ لگیں، انہیں مہنگے پٹرول پر تنقید نہیں، ابرار الحق صاحب کی سربراہی میں رقص کرنا چاہیے۔
قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی ہے ، ہم جیسوں کوبھی یقین تھا ، چھاؤں آئے گی۔ ہم نہیں دیکھیں گے تو ہماری آئندہ نسل دیکھے گی۔ مگر ہم نے کب یہ سوچا تھا کہ وقت کا موسم یوں بدل جائے گا۔ اچانک ہی، دیکھتے ہی دیکھتے، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔
واقعات کی ترتیب بتاتی ہے کہ کہیں یہ شدید خواہش تھی کہ اس جنگ کو ایران عرب جنگ میں بدل دیا جائے ، ایسا نہیں ہو سکا تو یہ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے ٹویٹ کی جنہیں سمجھ نہیں آ رہی وہ ان معاملات میں اپنے فہم کو بہتر کریں۔
برادر اسلامی ملکوں کا پاکستان نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ اب بھی کر رہا ہےا ور آئندہ بھی کرے گا۔ یو اے سے سے بھی اچھے تعلقات ہی رکھے گا لیکن یہ بتا دیا گیا کہ ہم جب بطور ریاست فیصلے کرتے ہیں تو ساڑے تین ارب ڈالر کی لیوریج پر نہیں کرتے، ہم اپنے مفاد میں اپنے فارن پالیسی بناتے ہیں۔ پیغام یو اے سی سے بہت آگے تک پہنچا دیا گیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی ساڑھے تین ارب ڈالر کی یرغمال نہیں بن سکتی۔
امریکہ کی جانب سے اشارے تو مل رہے ہیں کہ وہ اس جزیرے پر قبضہ کرنے جا رہا ہے ۔ امریکہ اس وقت پھنسا پڑا ہے ۔ اس کی عزت داؤ پر لگ چکی ہے۔ وہ ایک اندھی طاقت بھی ہے۔ اس کی قیادت بھی ٹرمپ جیسے متلون مزاج انسان کے ہاتھ میں ہے جو انتہائی غلط فیصلہ بالکل درست وقت پر کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتا ہے
انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔
آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔