حکومت نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں پُرتشدد کارروائیوں اور سڑکوں کی بندش کے خلاف سخت قانونی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 20, 2026

ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ترکیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب کی ممکنہ عسکری ضروریات کا جائزہ لے گا۔

September 20, 2026

اسلام آباد کے داخلی راستوں پر امن برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پُرتشدد مظاہرین اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔

September 20, 2026

ایران نے امریکہ سے مذاکرات کیلئے تین شرائط پیش کردیں، جبکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرانے میں مدد کی پیشکش بھی کردی۔

September 20, 2026

شیخ ہیبت اللہ کے دفتر سے سامنے آنے والی دستاویز میں فتنۃ الہندستان کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کی ہدایت کا انکشاف ہوا ہے۔

September 20, 2026

تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان، سردار محمد یوسف نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی ہے۔

September 20, 2026

پاکستان کا ایران کے لیے بڑی تجارتی سہولت کا اعلان؛ تیسرے ملک تک رسائی کے لیے ٹرانزٹ روٹس کی اجازت

اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ان تمام اشیاء کی نقل و حمل پر لاگو ہوگا جو کسی تیسرے ملک سے روانہ ہو کر پاکستان کے راستے ایران کی کسی بھی منزل تک پہنچائی جانی ہوں۔

April 26, 2026

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایران کو پاکستان کے راستے کسی بھی تیسرے ملک کے ساتھ تجارت کی اجازت دے دی ہے۔ وزارتِ تجارت کی جانب سے اس سلسلے میں “سامان ٹرانزٹ آرڈر 2026” کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت نے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ 1950 میں ضروری ترامیم کر دی ہیں۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ان تمام اشیاء کی نقل و حمل پر لاگو ہوگا جو کسی تیسرے ملک سے روانہ ہو کر پاکستان کے راستے ایران کی کسی بھی منزل تک پہنچائی جانی ہوں۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے متبادل اور محفوظ روٹس فراہم کرنا ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تجارت بلکہ علاقائی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

حکومت نے سامان کی نقل و حمل کے لیے مخصوص روٹس کا تعین بھی کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گوادر، پورٹ قاسم، لیاری، اورماڑہ، پسنی اور گبد جیسے کلیدی مقامات ان روٹس کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ کراچی، خضدار، دالبندین، تفتان، تربت، ہوشاب، پنجگور، ناگ، بیسیمہ اور کوئٹہ کے راستوں کو بھی اس تجارتی راہداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سامان کی یہ تمام نقل و حمل کسٹمز ایکٹ 1969 اور ایف بی آر کے مقرر کردہ سخت قواعد و ضوابط کے تحت ہوگی۔ ماہرین اس فیصلے کو پاک ایران تعلقات میں ایک نیا سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے پاکستان کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کی اہمیت مزید واضح ہوئی ہے اور یہ خطے میں تجارتی مرکز بننے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

دیکھئیے:پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تمام ڈپازٹس واپس کر دیے؛ تین ارب پنتالیس کروڑ ڈالر کی ادائیگی مکمل

متعلقہ مضامین

حکومت نے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں پُرتشدد کارروائیوں اور سڑکوں کی بندش کے خلاف سخت قانونی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 20, 2026

ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت ترکیہ پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب کی ممکنہ عسکری ضروریات کا جائزہ لے گا۔

September 20, 2026

اسلام آباد کے داخلی راستوں پر امن برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے پُرتشدد مظاہرین اور قانون شکن عناصر کے خلاف سخت پالیسی نافذ کر دی ہے۔

September 20, 2026

ایران نے امریکہ سے مذاکرات کیلئے تین شرائط پیش کردیں، جبکہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرانے میں مدد کی پیشکش بھی کردی۔

September 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *