اسلام آباد میں منعقدہ تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب اور حرمین شریفین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع سے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حرمین شریفین کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض حکومتی یا سیاسی نوعیت کے نہیں۔ یہ تعلقات دینی، روحانی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہیں۔
حرمین کے لیے جان بھی قربان ہے
اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہماری جان بھی قربان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم مقدس مقامات کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں حرمین شریفین کے معاملے پر متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عبدالغفور حیدری، جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ شاہ اویس نورانی، مولانا عبد لاحق ثالث اور دیگر مقررین نے بھی سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
مقررین نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی فوری طور پر روکی جائے۔
آبپارہ چوک پر بھی بڑا مارچ
اس سے قبل اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں تحفظ حرمین شریفین کے عنوان سے ایک بڑا مارچ بھی منعقد ہوا۔ مارچ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
مارچ میں دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکتب فکر سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ شرکا نے حوثی حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب و حرمین شریفین کے ساتھ واضح اور برملا اظہار یکجہتی کیا۔
مقررین نے کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع اور تقدس کے معاملے پر پاکستانی قوم متحد ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی حالیہ بیانات میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔