مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

سعودیہ کے دفاع سے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی ہے، تحفظ حرمین کانفرنس

تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان، سردار محمد یوسف نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی ہے۔
تحفظ حرمین کانفرنس، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی

تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان، سردار محمد یوسف نے آئی ایس پی آر کے بیان کو قوم کی ترجمانی قرار دیا۔

September 20, 2026

اسلام آباد میں منعقدہ تحفظ حرمین شریفین کانفرنس میں سعودی عرب اور حرمین شریفین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع سے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان پوری قوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حرمین شریفین کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض حکومتی یا سیاسی نوعیت کے نہیں۔ یہ تعلقات دینی، روحانی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہیں۔

حرمین کے لیے جان بھی قربان ہے

اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہماری جان بھی قربان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم مقدس مقامات کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں حرمین شریفین کے معاملے پر متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عبدالغفور حیدری، جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ شاہ اویس نورانی، مولانا عبد لاحق ثالث اور دیگر مقررین نے بھی سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

مقررین نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی فوری طور پر روکی جائے۔

آبپارہ چوک پر بھی بڑا مارچ

اس سے قبل اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں تحفظ حرمین شریفین کے عنوان سے ایک بڑا مارچ بھی منعقد ہوا۔ مارچ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

مارچ میں دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکتب فکر سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ شرکا نے حوثی حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب و حرمین شریفین کے ساتھ واضح اور برملا اظہار یکجہتی کیا۔

مقررین نے کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع اور تقدس کے معاملے پر پاکستانی قوم متحد ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف بھی حالیہ بیانات میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *