فرنٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ موقف افغانستان کے ان 80 فیصد عوام کی حقیقی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا پاکستان کے ساتھ کوئی سرحدی یا علاقائی تنازع نہیں ہے اور جو دونوں برادر ممالک کے درمیان پرامن، تعمیری اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

April 27, 2026

آج کی گورننس کا حال بھی ماضی سے مختلف نہیں۔ 2021 سے اب تک معیشت 30 فیصد سکڑ چکی ہے، لاکھوں ملازمتیں ختم ہو گئیں اور 75 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ 25 لاکھ بچیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔

April 27, 2026

وزیراعظم نے اس اجازت کے ساتھ ایک اہم شرط بھی عائد کی ہے۔ ملک میں جاری “قومی کفایت شعاری مہم” کے پیشِ نظر، وزیراعظم نے شائقینِ کرکٹ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اسٹیڈیم آنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں یا ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھیں

April 27, 2026

کنڑ یونیورسٹی پر پاکستانی فضائیہ کے حملے کے دعوے من گھڑت نکلے؛ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف منظم پراپیگنڈا مہم بے نقاب کر دی گئی۔

April 27, 2026

افغانستان میں مبینہ فضائی حملوں کے بعد چمن بارڈر پر پاک افغان افواج کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس سے سرحدی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

April 27, 2026

صدر آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوران کراچی میں پانی کی فراہمی اور زرعی شعبے میں جدت لانے کے لیے پاکستان اور چین کے مابین 3 اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے۔

April 27, 2026

فکری یلغار اور ڈیجیٹل دہشت گردی: ’المرصاد‘ کا فتنہ اور پاکستان کا دفاعی بیانیہ

یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ فعال ’المرصاد‘ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور سفارتی کششوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور کی تحقیقاتی رپورٹ نے افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ فعال ’المرصاد‘ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور سفارتی کامیابیوں کو نشانہ بنا رہا ہے

پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارفیئر کے نئے محاذ ’المرصاد‘ کی حقیقت جانیے۔ افغان طالبان کے انٹیلی جنس ڈھانچے، انڈین کرونیکلز سے تزویراتی گٹھ جوڑ اور جید علماء کے خلاف منظم مہم کے پسِ پردہ محرکات کا تفصیلی جائزہ۔

April 27, 2026

پاکستان اس وقت محض جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کی جنگ نہیں لڑ رہا، بلکہ اسے ایک ایسی عیارانہ جارحیت کا سامنا ہے جہاں بارود سے زیادہ ‘بیانیے’ کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی آف لاہور کے تحقیقی مطالعے کی رپورٹ نے اس ہولناک سازش کا پردہ چاک کر دیا ہے کہ کس طرح افغان انٹیلی جنس کے زیرِ سایہ ’المرصاد‘ نامی پراپیگنڈا نیٹ ورک مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال سے پاکستان کی نظریاتی اساس اور داخلی استحکام کو نشانہ بنا رہا ہے۔

تزویراتی گٹھ جوڑ

تاریخی شواہد اور معاصر انٹیلی جنس تجزیے اس ہولناک حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ ’المرصاد‘ کی ریشہ دوانیاں دراصل اسی مذموم سلسلے کا تسلسل ہیں جس کا پردہ چاک 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ کی صورت میں ہوا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی تزویراتی شراکت داری ہے، جس میں بھارتی ڈس انفارمیشن لیبز اور افغان سرزمین پر نصب پروپیگنڈا مشینری ایک ہی ہدف، یعنی ریاستِ پاکستان کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ جعلی ایرانی ہینڈلز کے ذریعے پاک ایران برادرانہ مراسم میں رخنہ اندازی کی ناپاک کوششیں اس ‘ڈیجیٹل یلغار’ کا شاخسانہ ہیں، جس کا حتمی مقصد پاکستان کو علاقائی سطح پر تنہا کر کے اس کے تزویراتی قد کاٹھ کو محدود کرنا ہے۔

سفارتی برتری بمقابلہ بوکھلاہٹ

المرصاد اور اس کے ہم نوا گروہوں کی فکری بوکھلاہٹ کا اصل محرک پاکستان کی حالیہ تاریخ ساز سفارتی کامیابیاں ہیں۔ تہران اور واشنگٹن کے مابین حائل تزویراتی خلیج کو پاٹنے میں اسلام آباد کا بطور ’کلیدی سہولت کار‘ موثر کردار اور 8 اپریل کا تاریخی امن معاہدہ دشمن کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹک رہا ہے۔ پاکستان کا ایک ذمہ دار ایٹمی قوت اور ’عالمی مصالحت کار‘ کے طور پر ابھرنا ان فتنہ پرور طاقتوں کے لیے پیغامِ اجل ہے جو اس خطے کو دائمی انتشار اور لہو رنگ فساد کی نذر دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی متوازن اور بصیرت افروز خارجہ پالیسی کو ’موقع پرستی‘ کا لبادہ پہنا کر سادہ لوح اذہان کو مسموم کرنے کی ناکام سعی کی جا رہی ہے۔

اخلاقی زوال اور خارجی فتنہ

اس مہم کا تاریک ترین پہلو جید عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب کے خلاف شر انگیز مہم ہے۔ یہ علمی خیانت اور اخلاقی گراوٹ کی وہ انتہا ہے جہاں وہ عناصر جو کبھی مولانا کے زیرِ سایہ زانوئے تلمذ طے کرتے تھے، اب سیاسی و تزویراتی اختلافات کی بنیاد پر اپنے ہی محسن استاد کی تکفیر اور توہین کر رہے ہیں۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب بھی کسی گروہ نے ’خوارجی نظریات‘ کی راہ اختیار کی، اس کا پہلا نشانہ علمی و روحانی مراکز ہی بنے۔ المرصاد کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا مقصد مذہب کی خدمت نہیں بلکہ مذہب کی آڑ میں پاکستان کے قومی دفاعی بیانیے کو نقصان پہنچانا اور علماء کو ہراساں کر کے ریاست سے دور کرنا ہے۔

وقت کی ناگزیر ضرورت

موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان اب ’ڈیجیٹل خودمختاری‘ کو اپنے قومی دفاع کا لازمی حصہ قرار دے۔ دشمن اب صرف جغرافیائی سرحدوں پر نہیں، بلکہ ہمارے اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا فیڈز اور الگورتھمز کے ذریعے ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس اس ‘معلوماتی دہشت گردی’ کا مقابلہ روایتی دفاعی طریقوں سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ہمیں ایک جدید، مربوط اور جارحانہ ’قومی بیانیے‘ کی ضرورت ہے جو حقائق کی بنیاد پر دشمن کے مکر کو تار تار کر سکے۔

حرفِ آخر: ریاستی اداروں، میڈیا، تعلیمی ماہرین اور مذہبی قیادت کو ادراک کرنا ہوگا کہ ’المرصاد‘ محض ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک نظریاتی وائرس ہے۔ اس یلغار کا سدِ باب تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور دشمن کے بچھائے ہوئے ڈیجیٹل جال کو اپنی فکری بصیرت سے ناکام بنائیں۔ پاکستان کی سلامتی اور استحکام اس کی فکری سرحدوں کی مضبوطی میں ہی پنہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

فرنٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ موقف افغانستان کے ان 80 فیصد عوام کی حقیقی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا پاکستان کے ساتھ کوئی سرحدی یا علاقائی تنازع نہیں ہے اور جو دونوں برادر ممالک کے درمیان پرامن، تعمیری اور دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔

April 27, 2026

آج کی گورننس کا حال بھی ماضی سے مختلف نہیں۔ 2021 سے اب تک معیشت 30 فیصد سکڑ چکی ہے، لاکھوں ملازمتیں ختم ہو گئیں اور 75 فیصد آبادی دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ 25 لاکھ بچیاں تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔

April 27, 2026

وزیراعظم نے اس اجازت کے ساتھ ایک اہم شرط بھی عائد کی ہے۔ ملک میں جاری “قومی کفایت شعاری مہم” کے پیشِ نظر، وزیراعظم نے شائقینِ کرکٹ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اسٹیڈیم آنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں یا ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھیں

April 27, 2026

کنڑ یونیورسٹی پر پاکستانی فضائیہ کے حملے کے دعوے من گھڑت نکلے؛ افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان مخالف منظم پراپیگنڈا مہم بے نقاب کر دی گئی۔

April 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *