پاکستان اور چین نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے پانی کو نمکیات سے پاک کرنے جدید زرعی ٹیکنالوجی اور چائے کی صنعت میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی تین اہم یادداشتوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، جو ان دنوں چین کے ایک ہفتہ طویل سرکاری دورے پر ہیں، نے ان معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ ان معاہدوں کا محور کراچی جیسے بڑے شہر میں پانی کی قلت کا خاتمہ اور ملک میں جدید کاشتکاری کے طریقوں کو متعارف کروانا ہے۔
ترجمان کے مطابق پہلا اہم معاہدہ حکومتِ سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی ‘لوسیون انوائرمنٹل ٹیکنالوجی گروپ’ کے درمیان طے پایا، جس کے تحت کراچی میں سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کا بڑا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔
President @AAliZardari in a group photograph with workers during his visit to SANY Heavy Industry Co., Ltd. pic.twitter.com/0AOkk3cPia
— PPP (@MediaCellPPP) April 26, 2026
اس کے علاوہ زرعی شعبے میں بہتری کے لیے ‘لونگ پنگ ہائی ٹیک انفارمیشن کمپنی’ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی فراہمی کا معاہدہ ہوا، جبکہ چائے کی صنعت میں خودکفالت کے لیے ‘ہونان ٹی گروپ’ کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کی گئی ہے۔
تقریب کے دوران صدر زرداری نے امراضِ قلب کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دینے پر چینی پروفیسر پان ژیانگ بن کو ‘ستارہِ پاکستان’ سے بھی نوازا۔ صدر مملکت نے اپنے دورے کے دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کے حکام سے ملاقاتیں کیں اور بیجوں کی ٹیکنالوجی و جدید مشینری کے شعبوں میں چینی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔