ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کو انتہائی کامیاب اور تزویراتی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں حکام کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
ماسکو پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ ان مخصوص حالات اور ماضی کے واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مؤثر ‘سہولت کار’ کے طور پر ابھرا ہے، جس کی تصدیق ایرانی وزیر خارجہ کے مثبت جذبات سے بھی ہوتی ہے۔
صدر پیوٹن سے ملاقات
عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے جس کا مقصد جنگ کی موجودہ صورتحال اور عالمی امور پر قریبی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں تہران اور ماسکو کے درمیان مشاورت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔
آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی
اپنے دورہ عمان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایران اور عمان، بحیثیت ساحلی ممالک، اس گزرگاہ کے تحفظ اور باہمی مفادات کے لیے ہم آہنگی برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان ماہرین کی سطح پر بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سفارتی ماہرین عباس عراقچی کے ان بیانات کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا اعتراف قرار دے رہے ہیں، جہاں پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی طاقتوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔