جنوبی وزیرستان: افغانستان کی جانب سے افغان طالبان فورسز نے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں شہری آبادی پر بلااشتعال مورٹار گولے فائر کیے ہیں، جس کے نتیجے میں دو خواتین اور دو بچوں سمیت متعدد شہری شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے یہ وحشیانہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وہ دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں مسلسل پناہ فراہم کر رہے ہیں۔
Alert: Mortar shells fired by Afghan Taliban forces struck a civilian house in Angoor Adda, South Waziristan, injuring two women and two children. The victims were transported to a hospital for treatment. pic.twitter.com/rMPE7oZMsL
— Mahaz (@MahazOfficial1) April 29, 2026
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا افغان طالبان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ فوجی ٹھکانوں کے بجائے نہتے شہریوں اور رہائشی مکانات پر گولہ باری اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان فورسز میدانِ جنگ میں اپنی ناکامیوں کا غصہ معصوم شہریوں پر نکال رہی ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد طالبان کی جانب سے یہ بلااشتعال کارروائی محض ایک بزدلانہ ردِعمل ہے، جس کا مقصد سرحد پار اشتعال انگیزی کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے۔ شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تئیں طالبان کی بے حسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے معصوموں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طالبان انتظامیہ کی ترجیح عام شہریوں کی حفاظت نہیں بلکہ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔
دیکھئیے:پکتیا: طالبان چوکی پر ساتھی کی فائرنگ سے جنگجو ہلاک، حکام کی جانب سے واقعہ ’حادثاتی‘ قرار