پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔

May 4, 2026

متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے پاکستانیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم پر سوشل میڈیا صارفین نے دبئی پولیس سے سخت کاروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

May 4, 2026

پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔

May 4, 2026

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

May 4, 2026

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

May 4, 2026

بھارت: ویسٹ بنگال میں مسلمانوں کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟

بھارتی الیکشن کمیشن کی خصوصی نظرثانی کے تحت ویسٹ بنگال میں تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے، جن میں متاثرہ افراد کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل بتایا جاتا ہے، جس پر مقامی سطح پر تشویش اور احتجاج سامنے آیا ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کی خصوصی نظرثانی کے تحت ویسٹ بنگال میں تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے، جن میں متاثرہ افراد کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل بتایا جاتا ہے، جس پر مقامی سطح پر تشویش اور احتجاج سامنے آیا ہے۔

اس میں ان حلقوں کے لیے سبق ہے جو پاکستان پر تنقید کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بھارت میں حالات بہتر ہوں گے۔ ویسٹ بنگال اور دیگر علاقوں میں مسلم ووٹروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اپنے وطن کی قدر کرنی چاہیے، جہاں مذہب کی بنیاد پر اس طرح کے خدشات کا سامنا نہیں۔

April 30, 2026

یہ کوئی نو دس سال پہلے کی بات ہے، انڈیا میں مودی جی کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ لاہور میں ایک بھارتی صحافی سے ملاقات ہوئی جو کسی عالمی ادارے سے منسلک تھے اور یہاں آئے ہوئے تھے۔ پرانے تجربہ کار آدمی، کئی دہائیوں کا صحافتی تجربہ، انگریزی اخبار سے وابستہ اور اس لحاظ سے اپر مڈل کلاس کی نمائندہ سوچ رکھنے والے۔ باتوں باتوں میں بھارتی مسلمانوں کا ذکر آیا تو انہوں نے ہاتھ ہلا کر کہا، ارے یار، مسلمانوں کو کوئی مسئلہ نہیں، مودی کو بدنام کیا جاتا ہے، بھارتی مسلمان پاکستانی مسلمانوں سے بہتر حالات میں رہتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔میں نے ایک دو سوال کیے،انہی دنوں بھارت میں مسلمانوں کی محرومی کے حوالے سے ایک رپورٹ آئی تھی، اس کے اعداد وشمار یاد تھے، اس کا حوالہ دیا۔ موصوف بھڑک گئے، پھر خاموش ہوگئے۔


آج وہ صحافی یاد آتے ہیں۔ یاد آتا ہے ان کا وہ اطمینان، وہ آسودگی۔ سوچتا ہوں کہ کیا وہ آج بھی اسی اطمینان کے ساتھ یہی بات دہرا سکتے ہیں؟ کیا جنوبی بنگال کے الیکشن میں مسلمانوں کے ساتھ جو بدترین زیادتی ہوئی ہے، ان کے کئی ملین ووٹروں کو ووٹ سے ہی محروم کر دیا گیا،کیا آج بھی وہ انڈین مسلمانوں کے بارے میں وہی بات کہہ سکیں گے ؟ کیا وہ بنگال کے ضلع مرشدآباد کا نقشہ دیکھ کر بھی یہی کہیں گے؟


مرشدآباد ویسٹ بنگال کا وہ ضلع ہے جہاں مسلمان آبادی چھیاسٹھ فیصد ہے۔ بعض سرحدی حلقوں میں یہ تناسب اسی فیصد سے بھی اوپر ہے۔ وہاں ان دنوں الیکشن ہوئے، تئیس اپریل کو پہلا مرحلہ تھا، انتیس اپریل کو دوسرا۔ نتائج چار مئی کو آئیں گے۔ لیکن اس الیکشن سے پہلے جو کچھ ہوا، وہ کہانی بذات خود ایک مقدمہ ہے، بھارتی جمہوریت کے خلاف۔

ویسٹ بنگال پر شدت پسند بی جے پی کا حملہ

ہمارے ہاں پچھلے چند ہفتوں سے ایران امریکہ جنگ ہی چھائی ہوئی ہے، اس کی قابل فہم وجوہات ہیں۔ دنیا بھر کا یہ اہم ترین ایشو ہے۔ نقصان یہ ہوا کہ بعض دیگر اہم ایشوز بالکل ہی نظرانداز ہوگئے۔ ان میں بھارت کے اہم ترین ریاستی انتخابات بھی ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بھارت میں صوبوں کو ریاست کہتے ہیں، آج کل دو اہم ریاستوں کے الیکشن ہو رہے ہیں، جنوبی بنگال اور تامل ناڈو۔ یہ دونوں خاصے بڑے صوبے ہیں اور ان کی خاص اہمیت یہ ہے کہ دونوں میں اینٹی جی جے پی صوبائی حکومتیں ہیں۔ دونوں کی حکمران جماعتیں نریندر مودی کی شدید مخالف ہیں۔


بی جے پی کی بڑی خواہش ہے کہ کسی طرح ان صوبوں میں حکومت بنائی جائے۔ اس مقصد کے لئے ایک بڑا ہی خطرناک اور گھٹیا وار مرکزی حکومت نے کیا۔ (آج کے کالم میں ہم ویسٹ بنگال کے الیکشن کا جائزہ لیں گے، تامل ناڈو کا پھر سہی۔) ویسٹ بنگال آبادی کے اعتبار سے بھارت کا چوتھا بڑا صوبہ ہے، دس کروڑ آبادی ہے، یہاں مسلمان مناسب تعداد میں ہیں اور کئی حلقوں پر وہ اثرانداز ہوسکتےہیں، شائد اسی وجہ سے مسلم ووٹرکو ٹارگٹ کیا گیا۔

الیکشن کمیشن مسلم ووٹروں کا دشمن بن گیا

بھارت میں جو ریاستی ادارے غیر جانبدار ہوا کرتے تھے یا جنہیں غیر جانبدار ہونا چاہیے، وہ اب بی جے پی کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ دراصل مودی جی کے غلام بن چکے ہیں، ان میں بھارتی الیکشن کمیشن سرفہرست ہے۔ اس بار ویسٹ بنگال میں حکومت بنانے کی شدید خواہش میں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کو بڑی بے دردی اور نہایت ڈھٹائی سے استعمال کیا۔


بھارتی الیکشن کمیشن نے ویسٹ بنگال کے ریاستی الیکشن سے پہلے “خصوصی مکمل نظرثانی” کے نام پر ووٹر فہرستوں کا جائزہ لیا۔ اس جائزے میں پورے ویسٹ بنگال سے اکیانوے لاکھ یعنی نائن پوائنٹ ون ملین ووٹروں کے نام نکال دیے گئے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً بارہ فیصد ہے۔ ان میں سے چونتیس فیصد مسلمان تھے۔ مرشدآباد میں چار لاکھ ساٹھ ہزار ، شمالی چوبیس پرگناس میں ساڑھے تین لاکھ ، مالدہ میں ڈھائی لاکھ نام کاٹے گئے۔ نندیگرام جیسے علاقے میں جہاں مسلمان پچیس فیصد ہیں، پچانوے فیصد سے زیادہ حذف شدگان مسلمان تھے۔


یہ اتفاق نہیں تھا۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔ بی جے پی اور ان کے حامی کہتے ہیں کہ یہ مردہ لوگوں، دوہرے اندراجات اور غیر قانونی داخلے والوں کو ہٹانے کا عمل تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ غریب مسلمان گھروں کے لوگ، جن کے پاس کاغذات تھے، جن کے والدین دو ہزار دو سے ووٹر تھے، وہ بھی فہرست سے غائب ہو گئے۔ میڈیا میں بہت سے بوڑھے مسلمان لوگوں نے شکوہ کیا کہ ان کا اور ان کے بچوں کا نام کاٹ دیا گیا، حالانکہ وہ کئی بار ووٹ ڈال چکے ہیں، انہوں نے شکوہ کیا “ہم تو یہیں پیدا ہوئے، یہیں مرنا ہے، پھر ایسا کیوں؟”

مسلم اکثریتی ووٹر کیسے اقلیت بنائے گئے

صاحبو، اگر یہ محض انتظامی نظرثانی ہوتی تو شائد کچھ نہ کہتا۔ لیکن اعداد جھوٹ نہیں بولتے۔ ان خارج شدگان ناموں پر عدالتوں میں بھی اپیل کی گئی، ستائیس لاکھ نام متنازع قرار پائے ، ان میں پینسٹھ فیصد مسلمانوں کے تھے۔ مرشدآباد کے شمشیر گنج حلقے میں ایک لاکھ آٹھ ہزار میں سے پچھتر ہزار نام نکالے گئے، یعنی ستر فیصد۔ اب بھلا کوئی بتائے کہ کسی ایک حلقے کے ستر فیصد ووٹر اچانک “جعلی” کیسے ہوگئے؟


مرشد آباد کے حلقے ‘جنگی پور’ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھا، لیکن راتوں رات اسے ہندو اکثریتی بنا دیا گیا۔ کیسے؟ الیکشن کمیشن نے ایک سے زیادہ کمزور، لنگڑے لولے عذر بنا کر ہزاروں ووٹروں کے نام لسٹ سے خارج کر دیے۔ صرف جنگی پور میں 36 ہزار سے زائد نام کاٹے گئے، جن میں سے 32 ہزار سے زائد صرف مسلمان تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو ہندو مسلم تناسب کل تک 46 اور 54 کا تھا، وہ بدل کر 52 اور 48 پر آ گیا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا الٹ پھیر نہیں یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے جس کا مقصد مسلم بنگالی کمیونٹی کو سیاسی طور پر بے دخل کرنا ہے۔

مسلم ووٹروں کو عدالت بھی ریلیف نہ دلا سکی

پھر جو ہوا وہ اور بھی دردناک ہے۔ جن لوگوں کے نام نکالے گئے وہ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے عدالتی جائزہ کمیٹیوں میں گئے، درخواستیں دیں، قطار بنا کر کھڑے رہے۔ سولہ اپریل کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ جن لوگوں کی درخواستیں اکیس اور ستائیس اپریل تک منظور ہو جائیں وہ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ عمل شروع ہوا تو ایک آزاد تجزیہ نگار نے حساب لگایا کہ انیس عدالتیں روزانہ پانچ گھنٹے کام کریں، ہر مقدمے پر پانچ منٹ لگیں تو روزانہ صرف گیارہ سو چالیس مقدمے نمٹ سکتے ہیں، اور یہ تمام چونتیس لاکھ درخواستوں کا صرف صفر اعشاریہ سترہ فیصد ہے۔ یعنی قانون کا دروازہ کھلا رکھا، مگر اتنا تنگ کہ کوئی اندر نہ جا سکے۔


سب سے شرمناک یہ ہوا کہ جس روز پہلے مرحلے کی ووٹنگ تھی اس سے صرف دو روز پہلے، اکیس اپریل کو، الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ حذف شدہ ناموں میں سے صرف ایک سو انتالیس بحال کیے گئے۔ باقی سب کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں۔جی نوے لاکھ ووٹروں میں سے صرف ایک سو انتالیس بحال ہوئے۔ اس سے زیادہ گھٹیامذاق اور کیا ہوگا؟

ووٹ چوری نہیں شہریت چوری

یہ ووٹ چوری سے بڑھ کر شہریت چوری ہے۔ جب آپ کسی کا ووٹ کاٹتے ہیں تو آپ صرف ایک حق نہیں کاٹتے، آپ اسے پیغام دیتے ہیں کہ تم اس ملک کا حصہ نہیں، تمہاری موجودگی مشکوک ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو بی جے پی نے دو ہزار انیس کے شہریت ترمیمی قانون میں رکھی تھی، جہاں تین ملکوں سے آنے والے غیر مسلموں کو شہریت کا راستہ دیا گیا مگر مسلمانوں کو باہر رکھا گیا۔ کہانی وہی ہے، صرف ہتھیار بدلا ہے۔ پہلے قانون سے شہریت روکو، اب ووٹر فہرست سے نکالو۔


یہ بی جے پی کا وہ انتہا پسندانہ ہندوتوا ایجنڈا ہے جس کا مقصد بھارت کو ایک ایسی ریاست بنانا ہے جہاں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ جائیں۔ مودی جی اور ان کے ساتھیوں نے جس طرح نفرت کی سیاست کو ہوا دی ہے، اس نے عام مسلمان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ کبھی ہجوم کے ہاتھوں قتل (موب لنچنگ)، کبھی حجاب کا مسئلہ اور کبھی اذان پر پابندی۔بھارت میں مسلمان آج ایک ایسے خوف کے سائے میں جی رہا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

مسلمان ووٹروں کا حیران کن ردعمل

اس پوری کہانی میں ایک حیران کن موڑ بھی ہے ، وہ یہ کہ جن لوگوں کے نام کاٹے گئے، ووٹ چھینے گئے، جن کے سینوں میں غصہ اور خوف دونوں اکٹھے بھرے تھے، انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے جو کیا وہ تاریخ میں لکھا جائے گا۔ ویسٹ بنگال نے آزادی کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ کی۔ پہلے مرحلے میں ترانوے اعشاریہ انیس فیصد اور دوسرے مرحلے میں اکانوے اعشاریہ چھیاسٹھ فیصد، دونوں مراحل ملا کر مجموعی ووٹنگ بانوے اعشاریہ سینتالیس فیصد رہی جو دو ہزار گیارہ کے چوراسی اعشاریہ بہتر فیصد کا ریکارڈ توڑ گئی۔

اس میں یہ بھی ہوا کہ جن مسلم اکثریتی علاقوں میں زیادہ ووٹ کاٹے گئے ،وہاں پچانوے سے اٹھانوے فیصد تک ٹرن آوٹ بھی ہوا یعنی رجسٹرڈ ووٹر سب کے سب اٹھ کر جیسے تیسے پولنگ سٹیشن پہنچ گئے، بوڑھے، بیمار،مرد، عورت، ہر ایک نے اپنا احتجاج جمہوری طریقے سے ریکارڈکرایا۔ اس کی کوئی دوسری مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ یعنی نوے لاکھ نام کاٹے گئے اور جواب میں پوری ریاست نے ریکارڈ ووٹنگ کی۔ مرشدآباد میں جہاں سب سے زیادہ نام نکالے گئے تھے، شمشیر گنج، راگھوناتھ گنج، بھگبان گولا اور لال گولا میں ووٹنگ پچانوے ، ستانوے فیصد سے بھی زیادہ گئی۔


یہ نہتا جمہوری احتجاج تھا۔ لاٹھیوں کے بغیر، نعروں کے بغیر، صرف ووٹ کی پرچی کے ساتھ۔ جب آپ کسی کو دروازے سے دھکیلیں اور وہ دونوں پاؤں جما کر کھڑا ہو جائے تو اسے کہتے ہیں حوصلہ۔

الیکشن ڈے پر بھی ظلم جاری رہا

جنوبی بنگال کے الیکشن میں صرف پری پول رگنگ نہیں ہوئی بلکہ الیکشن ڈے پر بھی تشدد کی اطلاعات آئیں، پولنگ بوتھوں پر دھمکیاں، مخالف امیدواروں پر حملے اور اسانسول میں کانگریس کے ایک حامی دیبدیپ چٹرجی کا قتل۔ مرشدآباد میں دھماکے ہوئے۔ یعنی بنگال میں الیکشن کا ماحول ووٹنگ کے بعد بھی پرسکون نہ ہو سکا۔

انڈین مسلم سیکولر دانشور کہاں گئے؟

یہ بہت اہم سوال ہے کہ بھارت کے مسلم سیکولر دانشور، لکھاری اور دیگر ممتاز شخصیات کہاں گئیں؟ وہ اس ایشو کو پراپر طریقے سے نمایاں کرنے میں ناکام کیوں ہوگئیں؟
اس کی دو تین وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ سب سے بڑی تو یہ کہ بھارت میں مسلمانوں کے لئے آواز بلند کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے ہی کوئی مسلمان آواز اٹھائے، وہ فوری ٹارگٹ ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم اہم شخص مسلمانوں سے زیادتی پر بات کرے تو اس کے خلاف بھی مہم شروع ہوجاتی ہے، اسے پاکستان جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مسلم دانشور یا سیکولر لکھاری اسے “مسلمانوں کے خلاف منظم زیادتی” کہے تو فوراً “فرقہ پرست”، “پاکستان پرست” یا “ووٹ بینک کی سیاست” کا لیبل لگ جاتا ہے۔ موجودہ ماحول میں بہت سے لوگ خاموش رہنے کو محفوظ سمجھتے ہیں۔
مین اسٹریم انگریزی میڈیا بھی (جس میں زیادہ تر لبرل دانشور لکھتے ہیں) اب زیادہ محتاط ہو گیا ہے۔ اگر کوئی مضمون “مسلمانوں کے خلاف نشانہ” کا عنوان دے تو بی جے پی کے حامی اسے “فرقہ پرستی” قرار دے کر کمپین چلا دیتے ہیں۔ اس لیے بہت سے لکھاری “ڈیٹا، جمہوریت اور انتخابی کمیشن” جیسے محفوظ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ سیکولر طبقے کی طرف سے اتنی بڑی زیادتی پر آواز نہ اٹھانا نہایت افسوسناک ہے۔


بی جے پی کیا چاہتی ہے؟ بی جے پی کی مہم کا محور کیا تھا؟ مودی جی نے کوچ بہار کے جلسے میں کہا کہ بنگال کی آبادی کا ڈھانچہ بدلا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتخابی مہم میں بابری مسجد کا ذکر اٹھایا اور کہا کہ بنگال میں بابری مسجد بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، جب تک ایک بھی بی جے پی کارکن زندہ ہے یہ نہیں ہوگا۔ یعنی ووٹر فہرستوں سے نام نکالنا کافی نہیں تھا، اوپر سے تیس سال پرانے زخم کی نمک پاشی بھی ضروری تھی۔ یہ بی جے پی کا آزمودہ نسخہ ہے، پہلے مسلمانوں کو کمزور کرو، پھر انہیں خطرے کے طور پر پیش کرو، یوں ہندو ووٹ یکجا ہوتا ہے۔
ممتا بنرجی پندرہ برسوں سے بنگال میں وزیراعلیٰ ہیں۔ دو ہزار گیارہ میں انہوں نے چونتیس سالہ بائیں بازو کی حکومت اکھاڑ پھینکی، پھر دو ہزار اکیس میں مودی کی لہر کے باوجود دو سو تیرہ نشستیں جیتیں۔ وہ ایک فائٹر خاتون ہیں، مگر پندرہ سالہ حکمرانی میں کرپشن کے الزامات، بے روزگاری اور قانون و امن کے سوالات بھی ہیں۔ اس الیکشن میں مقابلہ کانٹے کا ہے۔ نتائج چار مئی کو آئیں گے اور اس بار بنگال کے ووٹر کا فیصلہ پوری بھارتی سیاست پر اثر ڈالے گا کیونکہ دو ہزار انتیس کے عام انتخابات کا حساب بنگال سے ہی طے ہوگا۔


نریندر مودی جب دل چاہے یا ضرورت پڑے تو گاندھی جی کے اقوال کا حوالہ دینے لگتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ گاندھی جی نے کہا تھا کہ جمہوریت میں اقلیتوں کا تحفظ سب سے بڑا امتحان ہے۔ افسوس کہ بی جے پی اور مودی نے بھارت میں مسلمان اقلیت کا جینا حرام کر دیا ہے، ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں۔ مرشدآباد میں جو ہوا وہ اس امتحان میں بھارت کے ناکامی کا پرچہ ہے۔ اللہ بھارتی مسلمانوں کے صبر کو اجر دے اور ان کے حوصلے قائم رکھے، وہ ایک ارب چالیس کروڑ کے ملک میں بیس کروڑ ہیں، اور ان کا سانس لینا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

بھارت کو پسند کرنے والے پاکستانیوں کے لئے سبق

اس میں ان پاکستانی حلقوں کے لئے بھی سبق ہے جنہیں اپنے وطن سے شکوے شکایات ہیں اور ان میں سے بعض بدبخت تقسیم ہند کے خلاف بات کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ انڈیا میں وہ ہوتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ ویسٹ بنگال میں مسلمان ووٹروں کے ساتھ جو اب ہوا، یوپی اور دیگر جگہوں پر مسلسل جو مسلم دشمن رویہ اپنایا جا رہا ہے، اس میں پاکستانی مسلمانوں کے لئے واضح پیغام ہے کہ شکر ادا کریں کہ اپنا آزاد وطن ہے جس میں انہیں مذہب کی بنا پر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اس پورے معاملے کا نچوڑ یہی ہے کہ جو جمہوریت نوے لاکھ شہریوں کا ووٹ کاٹ کر صرف ایک سو انتالیس ووٹر بحال کرے، وہ جمہوریت نہیں، ایک گھٹیا بھونڈا مذاق ہے، نرا دکھاوا ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔

May 4, 2026

متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے پاکستانیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم پر سوشل میڈیا صارفین نے دبئی پولیس سے سخت کاروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

May 4, 2026

پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کوشش نہیں بلکہ ایک مربوط ریاستی منصوبہ ہے، جسے بین الاقوامی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل کیا گیا۔

May 4, 2026

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں ‘نیشن اسٹیٹ’ کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *