متحدہ عرب امارات میں مقیم مختلف قومیتوں کے صارفین نے سوشل میڈیا پر دبئی پولیس کی توجہ ایک تشویشناک رجحان کی جانب مبذول کروائی ہے۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ نسل پرستی کو منتخب بنیادوں پر برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر بھارتی شہریوں کی جانب سے پاکستانیوں کے خلاف کیے جانے والے کھلے عام نسل پرستانہ تبصروں کو نظر انداز کرنا یو اے ای کے ان قوانین کی روح کے خلاف ہے جو تمام شہریوں اور مقیم افراد کے لیے یکساں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
رواداری اور بقائے باہمی کے اصول
سوشل میڈیا مہم کے دوران یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر رواداری، تنوع اور پرامن بقائے باہمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی پوری قوم کی تضحیک کرنا یا ان کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنا ان بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ان افراد کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی جو اماراتی سرزمین پر رہتے ہوئے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نفرت اور تقسیم کو ہوا دے رہے ہیں؟
سائبر قوانین کا یکساں اطلاق اور احتساب
یو اے ای کے سخت سائبر قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قوانین ہر قسم کی نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔ صارفین کے مطابق جب قانون کی خلاف ورزیاں اس قدر واضح ہوں تو حکام کی خاموشی سے غلط پیغام جا سکتا ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ احتساب کا عمل شفاف اور قومیت سے بالاتر ہونا چاہیے تاکہ یو اے ای کی اس عالمی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے جو احترامِ انسانیت پر مبنی ہے۔
محنت کشوں کی تضحیک
سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے نکات میں اس بات پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے کہ مخصوص برادریوں اور محنت کشوں کو نشانہ بنانا نہ صرف اخلاقی طور پر توہین آمیز ہے بلکہ قانونی طور پر بھی جرم ہے۔ یو اے ای کی معاشی اور سماجی طاقت اس کے کثیرالثقافتی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے میں تقسیم اور نفرت کے بیج بونے والے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے تاکہ ریاست کے امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔