پاکستان کا جوہری پروگرام ایک ہمہ جہت ریاستی سٹریٹجک منصوبہ تھا، جسے قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیشِ نظر شروع کیا گیا۔ یہ تاثر دینا کہ یہ محض کسی ایک فرد کی محنت کا نتیجہ تھا، حقیقت کو فراموش کرنے کے مترادف ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر عبد القدیر خان اس مشن کے ایک اہم ستون اور کلیدی شراکت دار تھے، تاہم اس کی تکمیل میں متعدد سائنسی، عسکری اور سیاسی اداروں کا مشترکہ خون پسینہ شامل تھا۔ یہ ایک مربوط ادارہ جاتی کوشش تھی جس کا مقصد ملک کا ناقابلِ تسخیر دفاع یقینی بنانا تھا۔
قوانین اور این پی ٹی کی حیثیت
پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اکثر “غیر قانونی” ہونے کا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، جو قانونی طور پر سراسر غلط ہے۔ پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں، لہٰذا وہ اس معاہدے کی کسی شق کا پابند نہیں تھا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری کا استعمال کرتے ہوئے دفاعی صلاحیت حاصل کرنا کسی صورت خلاف ورزی نہیں کہلاتا۔ پاکستان نے کسی بھی عالمی عہد نامے کی خلاف ورزی کیے بغیر اپنے ایٹمی سفر کو مکمل کیا، جو اسے ایک جائز اور خود مختار پروگرام بناتا ہے۔
ایران اور پاکستان کا موازنہ
اکثر عالمی حلقوں میں پاکستان اور ایران کے جوہری پروگراموں کا موازنہ کیا جاتا ہے، جو کہ ڈھانچہ جاتی طور پر غلط ہے۔ ایران ‘این پی ٹی’ کا دستخط کنندہ ہے، جس کی وجہ سے اس کی تمام جوہری سرگرمیاں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نگرانی کے فریم ورک اور قانونی وعدوں کے تحت آتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان اس نظام سے باہر رہ کر اپنی صلاحیتیں تیار کر رہا تھا۔ چنانچہ ایران کو اس کے عالمی وعدوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان پر ایسی کوئی پابندی عائد ہی نہیں تھی، جس سے دونوں کا موازنہ بے بنیاد ہو جاتا ہے۔
مبالغہ آرائی بمقابلہ حقیقت
ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بین الاقوامی سطح پر “مطلوب ترین” شخصیت کے طور پر پیش کرنا ایک افسانوی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کوئی مستند قانونی حیثیت نہیں۔ انہیں کبھی بھی اس طرح بین الاقوامی سطح پر نامزد یا اشتہاری قرار نہیں دیا گیا جیسا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں مبالغہ آرائی کی جاتی ہے۔ ریاستِ پاکستان کی جانب سے انہیں فراہم کردہ سیکیورٹی دراصل ملک کے اسٹریٹجک اثاثے کی حفاظت کا حصہ تھی تاکہ بھارت اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک کی ممکنہ تخریب کاری یا بیرونی حملوں سے بچا جا سکے۔
جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول
پاکستان کا جوہری سفر محض 1998 کے دھماکوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے بعد ایک انتہائی منظم اور مربوط ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول’ سسٹم تشکیل دیا گیا۔ آج پاکستان کی تمام سویلین جوہری تنصیبات آئی اے ای اے کے حفاظتی حصار کے تحت کام کر رہی ہیں۔ یہ پروگرام کسی خفیہ مہم جوئی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک دفاعی ضرورت، قومی اتفاقِ رائے اور مسلسل ادارہ جاتی ترقی کا مظہر ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔