پاکستان کے جوہری پروگرام کو اکثر “غیر قانونی” یا مہم جوئی قرار دے کر مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو کہ قانونی طور پر سراسر غلط ہے۔ یہ نوٹ کرنا انتہائی اہم ہے کہ پاکستان این پی ٹی'(جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے) کا دستخط کنندہ نہیں ہے، لہذا اس کا پروگرام ان ذمہ داریوں کے زمرے میں نہیں آتا جو اس نے کبھی قبول ہی نہیں کیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت خود مختار ریاستیں جو کسی معاہدے کا حصہ نہیں ہیں، وہ اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق دفاعی صلاحیتیں تیار کرنے کا قانونی حق رکھتی ہیں۔ پاکستان نے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کیے بغیر اپنا ایٹمی سفر مکمل کیا ہے۔
ایران اور پاکستان کا موازنہ
عالمی بیانیے میں پاکستان اور ایران کے جوہری پروگراموں کا موازنہ کیا جاتا ہے جو کہ بنیادی طور پر غلط ہے۔ ایران این پی ٹی کا دستخط کنندہ ہے، جس کی وجہ سے اس کی تمام جوہری سرگرمیاں قانونی طور پر عدم پھیلاؤ کے وعدوں اور آئی اے ای اے کے نگرانی کے فریم ورک کے تابع ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان نے اس معاہدے کے نظام سے باہر رہ کر اپنی صلاحیتیں تیار کیں۔ چنانچہ ایران کو اس کے تسلیم شدہ عالمی وعدوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان پر ایسی کوئی قانونی پابندی عائد نہیں تھی۔ یہ بنیادی فرق دونوں ممالک کے موازنے کو بے بنیاد بنا دیتا ہے۔
ادارہ جاتی عزم اور قومی سلامتی
پاکستان کا جوہری پروگرام کسی فردِ واحد کی کاوش نہیں بلکہ ایک منظم اور ادارہ جاتی ریاستی منصوبہ ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات اہم تھیں، لیکن یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک وسیع تر ریاستی کوشش کا حصہ تھیں جس میں سائنسی، عسکری اور سیاسی اداروں کا مشترکہ تعاون شامل تھا۔ یہ پروگرام اپنے حفاظتی ماحول کے ایک خود مختار ردِعمل کے طور پر تیار کیا گیا، جو دفاعی توازن کی ضروریات پر مبنی ایک دانستہ پالیسی فیصلہ تھا۔
کمانڈ، کنٹرول اور عالمی معیار
آج پاکستان کا ‘کمانڈ اینڈ کنٹرول’ سسٹم انتہائی مستحکم اور جدید خطوط پر استوار ہے جو بہترین عالمی طریقوں کے مطابق کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے تمام سویلین جوہری اثاثے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حفاظتی اصولوں کے تابع ہیں۔ مبالغہ آرائی پر مبنی بیانیوں کے برعکس، پاکستان کی جوہری صلاحیت قومی عزم اور حفاظتی ضرورت کا ثمر ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی اٹل ضمانت فراہم کرتی ہے۔