پاکستان میں دہشت گردی کے ایک نئے اور خطرناک رجحان کا انکشاف ہوا ہے جس میں خوارج ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، بالخصوص خیبر پختونخوا میں سویلین آبادی، خواتین اور بچوں کو بزدلانہ طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ ممتاز مذہبی رہنماء علامہ طاہر اشرفی نے اس فتنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرآنِ حکیم کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ کسی مومن کا ناحق قتل کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کبھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ یہ فتنہ اسلام کے نام پر معصوم مسلمانوں کا خون بہا کر دینِ فطرت کی روح کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دہشت گردی کے ہولناک اعداد و شمار
حالیہ رپورٹ کے مطابق 28 اپریل 2025 سے 8 اپریل 2026 کے مختصر عرصے میں صرف خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان نے مجموعی طور پر 444 ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان بزدلانہ کاروائیوں کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت 478 افراد شہید ہوئے۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد ملک میں خوف و ہراس پھیلانا اور عوام کا ریاست پر اعتماد کمزور کرنا ہے۔
را اور افغان سرزمین کا گٹھ جوڑ
تحقیقات اور شواہد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ فتنۃ الخوارج کو بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی بھرپور مالی معاونت اور جدید اسلحہ حاصل ہے۔ فتنۃ الخوارج کے کمانڈر عبدالحمید خراسانی کا اعترافی بیان اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ دشمن کی انٹیلی جنس چمن اور انگور اڈہ سیکٹر میں دانستہ طور پر سویلین آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ سرحد پار سے اشتعال انگیزی کو ہوا دی جا سکے۔
آپریشن غضب لِلحق: دشمن کے ٹھکانوں کی تباہی
پاکستان کی مسلح افواج نے ان دھمکیوں اور حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے ‘آپریشن غضب لِلحق’ کا آغاز کیا ہے۔ اس آپریشن کے تحت چمن سیکٹر سے لے کر جنوبی وزیرستان کے دشوار گزار علاقوں تک دہشت گردوں کے مراکز پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ پاک فوج کی بروقت کاروائیوں کے نتیجے میں دشمن کے متعدد ڈرون یونٹس اور تربیتی مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں، جس سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا لگا ہے۔
قومی عزم اور بقا کی جنگ
پاکستانی قیادت اور افواجِ پاکستان کا عزم ہے کہ جب تک فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ جنگ جاری رہے گی۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے وقار اور بقا کی جنگ ہے۔ دشمن چاہے کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی استعمال کر لے، ریاستِ پاکستان اپنی سرزمین کی حفاظت اور معصوم شہریوں کے خون کا حساب لینے کے لیے ہر حد تک جائے گی۔