کراچی پولیس نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے بندر (کوسٹل بیلٹ) سے کراچی آنے والی ایک بس سے کم عمر لڑکی کو بحفاظت بچا کر دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کارندے اس لڑکی کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہے تھے۔ پولیس کی اس بروقت مداخلت نے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے جو معصوم اور غریب بلوچ لڑکیوں کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے میں سرگرم ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ذہن سازی
تحقیقات سے یہ ہوش ربا انکشاف ہوا ہے کہ اس کم عمر لڑکی کی ذہن سازی کے لیے انسٹاگرام اور واٹس ایپ گروپس کا سہارا لیا جا رہا تھا۔ دہشت گرد کارندوں نے اسے شاری بلوچ، سمیہ کلندرانی اور مہرنگ بلوچ کی پروپیگنڈا ویڈیوز دکھا کر تشدد اور خودکش حملوں کو “عظیم قربانی” کے طور پر پیش کیا۔ بی ایل اے کا یہ سیل منظم طریقے سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کر کے بلوچ نوجوانوں، بالخصوص خواتین کو نظریاتی جال میں پھنسا رہا ہے۔
مصلحت پسندانہ قیادت اور تضادات
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 2022 میں بی ایل اے نے شاری بلوچ کو کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے کے لیے استعمال کیا، جس کے بعد عادلہ بلوچ، ماہل، گنجاتون اور زرینہ رفیع جیسی خواتین اسی دوغلی پالیسی کا شکار ہوئیں۔ تاہم، اس پورے نیٹ ورک میں سب سے بڑا تضاد قیادت کا اپنا طرزِ عمل ہے۔ عائشہ اسلم — جو ہلاک بی ایل اے کمانڈر اسلم بلوچ کی بیٹی ہے — بیرون ملک بیٹھ کر فنڈنگ اور پروپیگنڈا تو چلاتی ہے، لیکن اس نے کبھی خود یا اپنے خاندان کے کسی فرد کو اس نام نہاد “قربانی” کے لیے پیش نہیں کیا۔ اسی طرح فریدہ عرف پری بھی بیرون ملک سے بیٹھ کر غریب بلوچ لڑکیوں کو ورغلا رہی ہے جبکہ اس کے اپنے بچے محفوظ زندگی گزار رہے ہیں۔
اپنی بیٹیاں کیوں نہیں؟
یہ صورتحال بلوچ معاشرے اور دانشوروں کے لیے ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے: اگر خودکش حملہ اتنی ہی بڑی “قربانی” ہے تو یہ تنظیمیں اپنی بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کیوں نہیں بھیجتیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی تنظیمیں خواتین کو صرف اس لیے ڈھال بناتی ہیں کہ سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر خواتین کی تلاشی کا عمل نرم ہوتا ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر یہ معصوم زندگیوں کا سودا کرتے ہیں۔
قومی عزم کی ضرورت
ریاستِ پاکستان اور سیکیورٹی ادارے اس ہائبرڈ وارفیئر کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر مستعد ہیں۔ کراچی پولیس کی یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور دہشت گردوں کے اس زہریلے پروپیگنڈے کے خلاف عوامی شعور بیدار کیا جائے تاکہ مہرنگ بلوچ اور عائشہ اسلم جیسے کرداروں کی آڑ میں مزید کوئی معصوم بچی ان کے ناپاک عزائم کی بھینٹ نہ چڑھے۔