افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

August 10, 2026

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔

August 10, 2026

افغانستان میں نسلی تسلط یا قومی حکومت؟ طالبان کے غیر منصفانہ حکومتی ڈھانچے پر اندرونی آوازیں بلند

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔
افغانستان کے معاملات

فدائی کا یہ موقف کہ حکومت صرف پشتونوں یا چند مخصوص ملاؤں کی نہیں بلکہ تمام افغان باشندوں کی ہونی چاہیے، طالبان کی نسلی اور نظریاتی اجارہ داری کو بری طرح بے نقاب کرتا ہے

May 4, 2026

کابل:افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے خلاف اب اندرونی سطح پر کھل کر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ سابق گورنر پکتیا محمد حلیم فدائی کا جامع حکومت کے قیام کا مطالبہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملک کی موجودہ ساختی اور انتظامی کمزوریوں کی بنیاد نسلی اجارہ داری اور مختلف کمیونٹیز کے اخراج پر کھڑی ہے۔

فدائی کا یہ موقف کہ حکومت صرف پشتونوں یا چند مخصوص ملاؤں کی نہیں بلکہ تمام افغان باشندوں کی ہونی چاہیے، طالبان کی نسلی اور نظریاتی اجارہ داری کو بری طرح بے نقاب کرتا ہے۔ اس وقت ملک کی 55 سے 58 فیصد غیر پشتون آبادی اقتدار اور فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر باہر رکھی گئی ہے۔

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

ان کی 49 رکنی کابینہ میں صرف دو تاجک، دو ازبک، دو بلوچ اور ایک نورستانی کو جگہ دی گئی ہے۔ حیران کن طور پر ہزارہ برادری اور خواتین کی نمائندگی یہاں بالکل صفر ہے۔

یہ محض ایک حکومت نہیں بلکہ نظریاتی کنٹرول کی آڑ میں کی جانے والی نسلی گرفت ہے جس میں اختلافِ رائے اور تکثیریت کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ قندھار سے چلنے والا یہ مرکزی کنٹرول زمینی حقائق سے مکمل لاتعلقی کا مظہر ہے۔

طالبان کا یہ حکومتی ماڈل نسلی خلیج کو مٹانے کے بجائے اسے مزید گہرا کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی ناکام حکمرانی اور اندرونی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے تنگ نظری پر مبنی بیانیے استعمال کرتے ہیں جو ملک کو مزید بحران کی طرف لے جاتے ہیں۔

محمد حلیم فدائی جیسے رہنماؤں کی آوازیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ افغانستان کے اندر ایک ایسا بڑا طبقہ موجود ہے جو طالبان کے اس امتیازی اور غیر نمائندہ نظام کو یکسر مسترد کر رہا ہے۔

یہ حقیقت اب عیاں ہو چکی ہے کہ طالبان کی حکومت تمام افغان عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا سخت گیر پاور سٹرکچر ہے جو نسلی تسلط، نظریاتی کنٹرول اور منظم اخراج کی بنیاد پر کھڑا ہے، جو ملک کو ایک ناکام ریاست کے ڈھانچے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

دیکھئیے:قومی شناخت کی نفی اور دہشت گردوں کی سرپرستی: طالبان کا نظریاتی قلعہ خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار

متعلقہ مضامین

افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *