حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

افغانستان میں نسلی تسلط یا قومی حکومت؟ طالبان کے غیر منصفانہ حکومتی ڈھانچے پر اندرونی آوازیں بلند

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔
افغانستان کے معاملات

فدائی کا یہ موقف کہ حکومت صرف پشتونوں یا چند مخصوص ملاؤں کی نہیں بلکہ تمام افغان باشندوں کی ہونی چاہیے، طالبان کی نسلی اور نظریاتی اجارہ داری کو بری طرح بے نقاب کرتا ہے

May 4, 2026

کابل:افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے خلاف اب اندرونی سطح پر کھل کر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ سابق گورنر پکتیا محمد حلیم فدائی کا جامع حکومت کے قیام کا مطالبہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملک کی موجودہ ساختی اور انتظامی کمزوریوں کی بنیاد نسلی اجارہ داری اور مختلف کمیونٹیز کے اخراج پر کھڑی ہے۔

فدائی کا یہ موقف کہ حکومت صرف پشتونوں یا چند مخصوص ملاؤں کی نہیں بلکہ تمام افغان باشندوں کی ہونی چاہیے، طالبان کی نسلی اور نظریاتی اجارہ داری کو بری طرح بے نقاب کرتا ہے۔ اس وقت ملک کی 55 سے 58 فیصد غیر پشتون آبادی اقتدار اور فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر باہر رکھی گئی ہے۔

طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔

ان کی 49 رکنی کابینہ میں صرف دو تاجک، دو ازبک، دو بلوچ اور ایک نورستانی کو جگہ دی گئی ہے۔ حیران کن طور پر ہزارہ برادری اور خواتین کی نمائندگی یہاں بالکل صفر ہے۔

یہ محض ایک حکومت نہیں بلکہ نظریاتی کنٹرول کی آڑ میں کی جانے والی نسلی گرفت ہے جس میں اختلافِ رائے اور تکثیریت کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ قندھار سے چلنے والا یہ مرکزی کنٹرول زمینی حقائق سے مکمل لاتعلقی کا مظہر ہے۔

طالبان کا یہ حکومتی ماڈل نسلی خلیج کو مٹانے کے بجائے اسے مزید گہرا کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان اپنی ناکام حکمرانی اور اندرونی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے تنگ نظری پر مبنی بیانیے استعمال کرتے ہیں جو ملک کو مزید بحران کی طرف لے جاتے ہیں۔

محمد حلیم فدائی جیسے رہنماؤں کی آوازیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ افغانستان کے اندر ایک ایسا بڑا طبقہ موجود ہے جو طالبان کے اس امتیازی اور غیر نمائندہ نظام کو یکسر مسترد کر رہا ہے۔

یہ حقیقت اب عیاں ہو چکی ہے کہ طالبان کی حکومت تمام افغان عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا سخت گیر پاور سٹرکچر ہے جو نسلی تسلط، نظریاتی کنٹرول اور منظم اخراج کی بنیاد پر کھڑا ہے، جو ملک کو ایک ناکام ریاست کے ڈھانچے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

دیکھئیے:قومی شناخت کی نفی اور دہشت گردوں کی سرپرستی: طالبان کا نظریاتی قلعہ خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار

متعلقہ مضامین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

September 25, 2026

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

September 25, 2026

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

September 25, 2026

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *