افغان طالبان کے اہم عہدیدار قاری سعید خوستی کی جانب سے حال ہی میں سوشل میڈیا پر جاری کردہ متنازع بیان نے ایک بار پھر طالبان کے دوہرے معیار، محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی اور حقائق کو مسخ کرنے کی منظم کوششوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قاری سعید خوستی نے اپنے بیان میں شیخ محمد ادریس کی شہادت کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کی کوشش کی اور اے پی ایس پشاور حملے جیسے دلخراش واقعے کی ذمہ داری سے ٹی ٹی پی کو بری الذمہ قرار دینے کا گمراہ کن دعویٰ کیا، جو کہ طالبان کی روایتی “توجہ ہٹاؤ” حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
حقائق سے پہلو تہی
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان اہلکار کا یہ بیان محض ایک انفرادی رائے نہیں بلکہ اس مستقل طرزِ عمل کی عکاسی ہے جس کے تحت وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کرنے کے عالمی الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے بیانیاتی حربے استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان کی حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر خوارج عناصر کے لیے ایک سہولت کار بن چکی ہے، جہاں ان دہشت گردوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ انہیں آپریشنل گنجائش اور مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
https://twitter.com/SaeedKhosty/status/2051525528624971780?s=20
علماء کو نشانہ بنانے کا رجحان
طالبان کی جانب سے علماء کے قتل کی نام نہاد مذمت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں خوارج کی جانب سے ان علماء کو باقاعدہ نشانہ بنانے کا رجحان موجود ہے جو امن، اعتدال اور حقیقی دینی تعلیمات کو فروغ دیتے ہیں۔ چارسدہ میں شیخ محمد ادریس کی شہادت بھی اسی وسیع تر مہم کا تسلسل ہے جس کا مقصد حق کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔ یہ ایک کھلی منافقت ہے کہ ایک طرف دہشت گردوں کو زمین فراہم کی جائے اور دوسری طرف بیانات کے ذریعے خود کو مظلوم ظاہر کیا جائے۔
دہشت گردی کا عالمی مرکز
حالیہ رپورٹوں کے مطابق طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان اس وقت 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا محفوظ مرکز بن چکا ہے۔ انہی ٹھکانوں کو استعمال کرتے ہوئے ٹی ٹی پی نے پاکستان میں 600 سے زائد حملے کیے، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ ان ناقابلِ تردید شواہد کے باوجود طالبان قیادت اور ان کے ترجمان الزامات کی منتقلی اور جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا موجودہ ڈھانچہ اور ان کے ترجمان اب قابلِ اعتبار فریق نہیں رہے، کیونکہ وہ ایک ایسے نظام کا دفاع کر رہے ہیں جو براہِ راست دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور احتساب سے بچنے کے لیے جھوٹے بیانیے تخلیق کرتا ہے۔