رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی اور مساوی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، جس کی 76 فیصد نوجوانوں نے توثیق کر دی ہے۔

September 24, 2026

بی این ایم کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے ملاقات کر کے جبری گمشدگیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔

September 24, 2026

کابل میں برقع نہ پہننے پر طالبان اہلکاروں کا سرعام خاتون پر تشدد، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی تشویش

افغانستان میں لباس کی بنیاد پر خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور معاشرے میں خوف اور دوری کو بڑھا دیا ہے۔
افغانستان میں لباس کی بنیاد پر خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور معاشرے میں خوف اور دوری کو بڑھا دیا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق لباس کی بنیاد پر خواتین کی گرفتاری اور جسمانی تشدد بنیادی انسانی حقوق اور وقار کی خلاف ورزی ہے۔

May 5, 2026

کابل میں طالبان کے زیرِ اثر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی جانب سے ایک خاتون کو عوامی مقام پر برقع نہ پہننے پر تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون اہلکار نے مرد اہلکاروں کی موجودگی میں یہ کاروائی کی، جو طالبان حکومت کے تحت لباس کے ضوابط کے جبری نفاذ اور انسانی حقوق کی پامالی کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی

انسانی حقوق کے ماہرین نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شخصی آزادی اور انسانی وقار کے منافی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قدامت پسند معاشرے یا مذہبی نظام میں بھی لباس کے ضابطوں پر عمل درآمد کے لیے جسمانی تشدد کا استعمال ایک غیر منصفانہ اور انتہا پسندانہ اقدام ہے۔ لباس کے انتخاب کی بنیاد پر خواتین کی گرفتاری اور ان پر تشدد ان کے شخصی تحفظ کے بنیادی حق پر براہِ راست حملہ ہے۔

جبری اقدامات

کابل کی سڑکوں سے منظرِ عام پر آنے والی تصاویر میں افغان خواتین کے خلاف جاری سخت گیر اقدامات کی تشویشناک جھلک پیش کرتی ہیں۔ ان تصاویر میں سفید لباس اور ٹوپی میں ملبوس اہلکاروں کو برقع پوش خواتین کو جبری طور پر روک کر باز پرس کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو وہاں کی روزمرہ زندگی میں پھیلے خوف اور دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

سماجی اثرات اور سیاسی ہتھیار

سماجی ماہرین کے مطابق،جبری طور پر نافذ کیے گئے یہ ضابطے قبولیت کے بجائے معاشرے میں خفیہ مزاحمت اور عوام و حکمران طبقے کے درمیان خلیج پیدا کر رہے ہیں۔ تجربات سے ثابت ہے کہ خواتین کی ظاہری وضع قطع پر ایسا سخت کنٹرول اکثر سماجی اصلاح کے بجائے سیاسی طاقت کے اظہار کا ایک ہتھیار ہوتا ہے۔

مستقبل کے خدشات

افغانستان میں اخلاقیات کے نفاذ کے ذمہ دار اداروں میں شفافیت اور آزاد نگرانی کا نظام موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے اختیارات کے غلط استعمال اور من مانی کارروائیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسانی حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ جاری رہا، تو اس کے نتیجے میں افغانستان کی عالمی تنہائی میں مزید اضافہ، عوامی اعتماد کی مکمل پامالی اور شدید سماجی تناؤ جنم لے سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

September 24, 2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

September 24, 2026

سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ پھر سامنے آگیا، فاروق ستار نے 6 یونٹس، یکساں وسائل اور بااختیار بلدیاتی نظام کی حمایت کردی۔

September 24, 2026

پشاور لانگ مارچ کی جانب جانے والی غلیلوں سے بھری گاڑی پکڑی گئی۔ حکام نے جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

September 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *