عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل اور بھارت نواز مخصوص میڈیا گروپس اور سیاسی حلقوں کی جانب سے چلائی جانے والی ایک منظم مہم بے نقاب ہوگئی ہے۔

May 13, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پہلگام واقعے کو بھارت کا خود ساختہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حقائق منظرِ عام پر آنے کے ڈر سے تحقیقات سے بھاگ رہا ہے اور اپنے داخلی بحرانوں کا الزام ہمیشہ پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے۔

May 13, 2026

خیبر میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے کلیدی کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا۔

May 13, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں افغانستان کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کابل کو بھارت کا آلہ کار قرار دے دیا اور کہا کہ دونوں سرحدوں پر دشمن ایک ہی ہے۔

May 13, 2026

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور مصالحتی کوششیں مستحکم ہیں اور کسی بھی گروہ کی جانب سے انہیں سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔

May 13, 2026

دہشت گردی کی سرپرستی: کابل آج ٹی ٹی پی، القاعدہ اور بی ایل اے سمیت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی کو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور اسلحہ پرمٹس تک میسر ہیں۔

May 13, 2026

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں بوسنیا کی سالمیت کی حمایت کا اعادہ، بڑھتی نسلی کشیدگی پر اظہارِ تشویش

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بوسنیا و ہرزیگووینا کی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بوسنیا و ہرزیگووینا کی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے خطے میں بڑھتے ہوئے اشتعال انگیز بیانیے کو امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ماضی کی ہولناک یادوں اور سربرینیتسا نسل کشی سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے

May 13, 2026

پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں بوسنیا و ہرزیگووینا کی صورتحال پر منعقدہ مباحثے میں پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ حالیہ عرصے میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سیاسی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیاں ملک کے مجموعی ماحول، بالخصوص مختلف نسلوں کے درمیان موجود نازک توازن کے لیے مثبت ثابت نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی کشیدگی اور ادارہ جاتی جمود نے ملک کے انتظامی، قانون سازی اور آئینی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

کرسچن شمٹ کا استعفیٰ

پاکستانی مندوب نے ہائی نمائندہ کرسچن شمٹ کی بریفنگ کو سراہتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کے ارادے کا نوٹس لیا۔ انہوں نے متعلقہ عالمی فریقئن پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ہائی نمائندہ کے جانشین کی تقرری کریں تاکہ بوسنیا کے حکام اپنی ذمہ داریاں اور ایجنڈا کی تکمیل کا عمل تیزی سے آگے بڑھا سکیں، جو کہ ملک کے مستقبل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

اشتعال انگیز بیانیے پر تشویش

سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ اگرچہ زمین پر صورتحال مستحکم ہے، لیکن نسلی اور مذہبی بنیادوں پر دیے جانے والے تقسیم انگیز بیانات تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مخصوص فریق کو نشانہ بنانا اور نفرت کو ہوا دینا کسی بھی صورت میں خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔

سربرینیتسا کا تذکرہ

سفیر پاکستان نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ سربرینیتسا کی بدنامِ زمانہ نسل کشی محض ہتھیاروں سے شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا آغاز نفرت انگیز الفاظ اور اشتعال انگیز تقریروں سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسیوں کو وجودی خطرہ بنا کر پیش کرنا ماضی میں ہولناک نتائج کا سبب بن چکا ہے، اس لیے ایسی نفرت انگیز زبان کی غیر مبہم مذمت ہونی چاہیے تاکہ ماضی کی تاریخ دہرائی نہ جا سکے۔

معاہدے کی پاسداری

پاکستان نے اپنے بیان میں زور دیا کہ امن کے لیے عمومی فریم ورک معاہدہ (ڈیٹن معاہدہ) اور اس کے تحت قائم کردہ آئینی ادارے ہی ملک کی فلاح و ترقی کے ضامن ہیں۔ سفیر کا کہنا تھا کہ پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین ڈیٹن معاہدے کے بنیادی اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں۔

عالمی شراکت داری

پاکستان نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے اس خود مختار حق کو تسلیم کیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی علاقائی سیاسی یا اقتصادی تنظیم (جیسے یورپی یونین) کے ساتھ انضمام کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ معاشی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داری ملک میں خوشحالی لانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

قیادت کے لیے پیغام: مکالمہ اور تعاون

سفیر عاصم افتخار نے بوسنیا کے تینوں بڑے گروہوں (بوسنیائی، کروٹس اور سربوں) پر زور دیا کہ وہ تقسیم اور خطرناک بیانیوں کو مسترد کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بوسنیا کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہاں کی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعمیری مکالمے کے ذریعے اپنے اختلافات حل کرے گی تاکہ عوام کے لیے ایک پرامن اور باوقار مستقبل تعمیر کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل اور بھارت نواز مخصوص میڈیا گروپس اور سیاسی حلقوں کی جانب سے چلائی جانے والی ایک منظم مہم بے نقاب ہوگئی ہے۔

May 13, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پہلگام واقعے کو بھارت کا خود ساختہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حقائق منظرِ عام پر آنے کے ڈر سے تحقیقات سے بھاگ رہا ہے اور اپنے داخلی بحرانوں کا الزام ہمیشہ پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے۔

May 13, 2026

خیبر میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے کلیدی کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا۔

May 13, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں افغانستان کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کابل کو بھارت کا آلہ کار قرار دے دیا اور کہا کہ دونوں سرحدوں پر دشمن ایک ہی ہے۔

May 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *