"> خوارج کا اسلام کے نام پر خونریز کھیل: حرام آمدنی پر پلنے والا گروہ انسانی جان اور تعلیم روشنی کا سخت دشمن - HTN Urdu خوارج کا اسلام کے نام پر خونریز کھیل: حرام آمدنی پر پلنے والا گروہ انسانی جان اور تعلیم روشنی کا سخت دشمن
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خوارج کا اسلام کے نام پر خونریز کھیل: حرام آمدنی پر پلنے والا گروہ انسانی جان اور تعلیم روشنی کا سخت دشمن

فتنۃ الخوارج اس وقت ملک کے استحکام اور امن کے لیے ایک واضح خطرہ بن چکا ہے جو صرف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ یہ گروہ نہ تو انسانی زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی نظریے سے سروکار ہے، بلکہ یہ صرف انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
فتنہ الخوارج

یہ گروہ اسلام کا نام محض اپنے تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ ان کا ہر عمل دینِ اسلام کی حقیقی اور پرامن تعلیمات کے مکمل منافی ہے ۔

May 13, 2026

خیبر: فتنۃ الخوارج کی جانب سے حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں بے دریغ حملوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے جس نے ان کے اصل چہرے کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق 13 مئی 2026 کو بنوں میں خوارج نے بینک کی ایک کیش وین پر مسلح حملہ کر کے اسے لوٹ لیا ۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو حرام آمدنی، بھتہ خوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کے لیے بطور ذریعہ معاش استعمال کر رہے ہیں ۔

ایک اور دل خراش واقعے میں 11 مئی 2026 کو خیبر میں ڈاکٹر اول سید کو مسجد کے اندر اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ عبادت میں مصروف تھے ۔ مسجد جیسی مقدس جگہ پر ایک مسیحا کو نشانہ بنانا خوارج کے دلوں میں انسانی تقدس اور مذہبی مقامات کے لیے پائی جانے والی شدید توہین کو ظاہر کرتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروہ اسلام کا نام محض اپنے تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ ان کا ہر عمل دینِ اسلام کی حقیقی اور پرامن تعلیمات کے مکمل منافی ہے ۔

خوارج کی جانب سے علم اور روشنی کے خلاف دشمنی بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے جہاں 12 مئی 2026 کو لکی مروت میں خواتین کی تعلیم کو روکنے کے لیے سنگین دھمکیاں دی گئیں ۔ یہ عناصر تعلیمی اداروں اور طلبہ کو نشانہ بنا کر معاشرے کو پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ ترقی پسند اور انسانی اقدار کو پنپنے سے روکا جا سکے ۔ ان کا اصل مقصد تعلیم کے دشمن بن کر ملک میں جہالت اور خوف کی فضا کو برقرار رکھنا ہے ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فتنۃ الخوارج اس وقت ملک کے استحکام اور امن کے لیے ایک واضح خطرہ بن چکا ہے جو صرف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ یہ گروہ نہ تو انسانی زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی نظریے سے سروکار ہے، بلکہ یہ صرف انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ قوم ان کے منافقانہ بیانیے کو مسترد کر چکی ہے اور اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ان پسماندہ ذہنیت رکھنے والے شر پسندوں کا ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے ۔

دیکھئیے:سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خیبر میں فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عمر عرف غازی ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *