خیبر: فتنۃ الخوارج کی جانب سے حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں بے دریغ حملوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے جس نے ان کے اصل چہرے کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق 13 مئی 2026 کو بنوں میں خوارج نے بینک کی ایک کیش وین پر مسلح حملہ کر کے اسے لوٹ لیا ۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ خوارج کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو حرام آمدنی، بھتہ خوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کے لیے بطور ذریعہ معاش استعمال کر رہے ہیں ۔
ایک اور دل خراش واقعے میں 11 مئی 2026 کو خیبر میں ڈاکٹر اول سید کو مسجد کے اندر اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ عبادت میں مصروف تھے ۔ مسجد جیسی مقدس جگہ پر ایک مسیحا کو نشانہ بنانا خوارج کے دلوں میں انسانی تقدس اور مذہبی مقامات کے لیے پائی جانے والی شدید توہین کو ظاہر کرتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروہ اسلام کا نام محض اپنے تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ ان کا ہر عمل دینِ اسلام کی حقیقی اور پرامن تعلیمات کے مکمل منافی ہے ۔
خوارج کی جانب سے علم اور روشنی کے خلاف دشمنی بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے جہاں 12 مئی 2026 کو لکی مروت میں خواتین کی تعلیم کو روکنے کے لیے سنگین دھمکیاں دی گئیں ۔ یہ عناصر تعلیمی اداروں اور طلبہ کو نشانہ بنا کر معاشرے کو پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ ترقی پسند اور انسانی اقدار کو پنپنے سے روکا جا سکے ۔ ان کا اصل مقصد تعلیم کے دشمن بن کر ملک میں جہالت اور خوف کی فضا کو برقرار رکھنا ہے ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فتنۃ الخوارج اس وقت ملک کے استحکام اور امن کے لیے ایک واضح خطرہ بن چکا ہے جو صرف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ یہ گروہ نہ تو انسانی زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی نظریے سے سروکار ہے، بلکہ یہ صرف انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ قوم ان کے منافقانہ بیانیے کو مسترد کر چکی ہے اور اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ان پسماندہ ذہنیت رکھنے والے شر پسندوں کا ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے ۔
دیکھئیے:سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خیبر میں فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عمر عرف غازی ہلاک