"> طالبان کا معروف شیعہ عالم پر وحشیانہ تشدد، اقلیتوں کے خلاف منظم مذہبی جبر تیز - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کا معروف شیعہ عالم پر وحشیانہ تشدد، اقلیتوں کے خلاف منظم مذہبی جبر تیز

کابل میں فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے بعد افغانستان کی شیعہ اور ہزارہ برادری میں شدید خوف، غم و غصہ اور تشویش پھیل گئی ہے۔
کابل میں فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ حسین داد شریفی کی گرفتاری اور مبینہ تشدد کے بعد افغانستان کی شیعہ اور ہزارہ برادری میں شدید خوف، غم و غصہ اور تشویش پھیل گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے شیعہ برادری پر مذہبی دباؤ میں شدید اضافہ۔ کابل میں آیت اللہ حسین داد شریفی پر تشدد اور شیعہ علمائے کرام کو ۶ ماہ قید کی دھمکیاں۔ ہزارہ رہنما محمد محقق کا سخت ردِعمل۔

May 16, 2026

کابل میں طالبان کی اخلاقی پولیس (وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم اور پیش امام آیت اللہ حسین داد شریفی کو فقہ جعفریہ کے تحت نکاح پڑھانے پر حراست میں لینے، ان کی تذلیل کرنے اور انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کابل کے پولیس ڈسٹرکٹ 18 میں پیش آنے والا یہ واقعہ طالبان حکومت کے اس گہرے فرقہ وارانہ تعصب اور عدمِ برداشت کو بے نقاب کرتا ہے جو وہ اہلِ تشیع کے خلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نکاح شیعہ فقہ میں جائز ہے، مگر حنفی مکتبِ فکر کی سخت گیر تشریح پر کاربند طالبان اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

علما کو تحریری ضمانتیں

رپورٹ کے مطابق طالبان فورسز نے اس واقعے کے بعد متعدد شیعہ علمائے کرام کو ہراساں کیا اور ان سے زبردستی تحریری ضمانتیں اور حلف نامے لیے ہیں کہ وہ مستقبل میں ایسے نکاح نہیں پڑھائیں گے۔ طالبان حکام نے علما کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر وہ دوبارہ اس سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو انہیں چھ ماہ قید کی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ناقدین اور انسانی حقوق کے حلقے اس رویے کو قانون کا نفاذ نہیں بلکہ صریحاً فرقہ وارانہ آمریت قرار دے رہے ہیں، جہاں پوری آبادی پر زبردستی ایک مخصوص سخت گیر دیوبندی نظریے کو مسلط کرنے اور شیعہ مذہبی شناخت کو مٹانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ یوں طالبان کی اخلاقی پولیس اب خوف اور ڈر کے بل بوتے پر لوگوں کی نجی زندگی، شادیوں اور عقائد کی نگرانی کرنے والی ایک نظریاتی مشینری بن چکی ہے۔

حزبِ وحدت اسلامی کا ردِعمل

اس المناک واقعے پر افغانستان کی پیپلز اسلامک یونٹی پارٹی (حزبِ وحدت اسلامی) کے سربراہ اور سینیئر ہزارہ سیاسی رہنما محمد محقق نے سخت ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ہزارہ اور شیعہ برادریوں کے خلاف مذہبی جبر کا یہ پھیلتا ہوا سلسلہ ملک کے اندر ایک خطرناک فرقہ وارانہ خلیج پیدا کر رہا ہے، جس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جمہوری دور میں حاصل آئینی تحفظات کو ختم کر کے طالبان نے اب عملی طور پر فقہ جعفریہ کی سرکاری حیثیت کو بالکل ختم کر دیا ہے، جو دہائیوں سے چلی آنے والی مذہبی رواداری کو ریورس کرنے کے مترادف ہے۔

شیعہ علما کی ٹارگٹ کلنگ

محمد محقق نے افغانستان میں شیعہ علما کی جانوں کو لاحق سنگین خطرات کا ذکر کرتے ہوئے عید محمد اعتمادی، خادم حسین ہدایتی، رجب اخلاقی، محمد محسن حامدی اور محمد تقی صادقی سمیت متعدد جید شیعہ علمائے کرام کے حالیہ قتل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ طالبان کے سیکیورٹی اور امن کے دعووں کے برعکس، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادیاں شدید خطرے میں ہیں اور یہ پے در پے ہلاکتیں اہلِ تشیع کے اندر بڑھتے ہوئے عدمِ تحفظ اور کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔

پروپیگنڈا اور زمینی حقائق

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال طالبان کے اس مضحکہ خیز منصوبے کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو سیاسی، سماجی اور نظریاتی طور پر اپنے تابع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک طرف طالبان بین الاقوامی برادری کے سامنے خود کو “اعتدال پسند” اور “سب کو ساتھ لے کر چلنے والی” حکومت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق ایک ایسے جابرانہ اور متعصب حکومت کی عکاسی کرتے ہیں جو مذہبی کثرت پسندی کو برداشت کرنے کی روادار نہیں ہے۔

طالبان کا یہ طرزِ عمل افغانستان میں کسی قومی اتحاد یا استحکام کو جنم نہیں دے رہا، بلکہ یہ فرقہ وارانہ دراڑیں بڑھانے، اقلیتوں پر ظلم ڈھانے اور انتہا پسندی کو سرکاری سرپرستی میں ادارہ جاتی شکل دینے کا باعث بن رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *